ملّا اور گالی

آج کل ایک فقرہ ہمارےنوجوانوں کو رٹا دیا گیا ہے اور وہ سعادت مندی اور دین داری کے جوش میں اسے جا بجا نقل کرتے نظر آتے ہیں۔ گزشتہ سال بھر میں میرے کانوں سے یہ الفاظ اتنی بار ٹکرائے ہیں اور نظر سے اتنی بار گزرے ہیں کہ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ فی زمانہ ایک خاص طبقے کی مقبول ترین دلیل ہے۔ فقرہ کم و بیش یوں ہے کہ جو اسلام کو گالی نہیں دے سکتا وہ ملّا کو گالی دے کر بھڑاس نکال لیتا ہے۔

تشویش کی بات یہ نہیں کہ یہ ایک بالکل لغو خیال ہے۔ غلط خیالات سے تو عوام کا نظام العقائد ہمیشہ پر ہوتا ہے اور ہر جگہ اور ہر زمانے میں ان کے ہاں من گھڑت چیزوں کو حقائق پر بوجوہ فوقیت حاصل ہوتی ہے۔ پریشانی اس بات کی ہے کہ اس بات سے معاشرے کا ایک ایسا گروہ بےانتہا فائدہ اٹھا رہا ہے جو کسی طور پر نہ اسلام کا خیرخواہ ہے نہ عوام کا۔ یہ گروہ مسلمانوں اور پاکستانیوں کی ساکھ پر گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دو کے مصداق آئے دن ہلہ بولتا رہتا ہے اور خطرہ ہے کہ اس دلیل کی بدولت خدانخواستہ اسلام اور پاکستان کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتا ہے۔

مذکورہ فقرے کی صحت و صلابت کو پرکھنے کے لیے ارسطو یا نابغہ ہونا ضروری نہیں۔ محض آنکھیں اور دماغ کی کھڑکیاں کھولنے کی ضرورت ہے۔ حقیقت یہ ہے اور لطیفہ بھی یہی ہے کہ اسلام کو دنیا روز ایک نئی گالی دیتی ہے اور مسلمان اس کا بال تک بیکا نہیں کر سکتے۔ مسلمانوں پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں، قرآن جلائے جاتے ہیں، نبی اکرم ﷺ کے خاکے اڑائے جاتے ہیں، امت کو دجالی اور شیطانی قرار دیا جاتا ہے، حجاب لینے سے لے کر زندہ رہنے تک کے حقوق کو کچل دیا جاتا ہے اور غیرت مند مسلمان اپنے اپنے ملکوں میں اپنی اپنی غیرت کے موافق گالیاں بک کے، ٹائر جلا کے اور اپنے ہم وطنوں کو مار پیٹ کے بیٹھ رہتے ہیں۔ مسلمانوں کی اس سلسلے میں کمزوری اور ناطاقتی کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو گا کہ ٹرمپ مسلمان دشمنی کے نعرے پر آج امریکہ کا صدر بن چکا ہے اور ناروے سے فرانس تک یورپ کے اکثر ممالک میں مسلمانوں کے خلاف تعصب سیاست کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

یہ محض مسلمانوں کی ابلہی اور خود فریبی پر دلیل ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ انھیں کوئی گالی نہیں دے سکتا۔ بندہ پرور، آپ کا اسمِ گرامی گالی ہے دنیا میں۔ آپ کی رذالت اور انسانیت سوزی پر بنگلہ دیش سے لے کر اقوامِ متحدہ تک کے ایوانوں میں سیاست کی جاتی ہے۔ آپ علامت ہیں وحشت اور بدتہذیبی کی۔ دنیا اظہارِ حقارت کے لیے افریقہ اور آسٹریلیا کے وحشی قبائل کی نہیں، امت کے متمدن  اور متدین باشندوں کے نام لیتی ہے۔ اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سے باہر نظر ڈالیے۔ اہلِ مغرب کے  کتے آپ سے زیادہ عزتِ نفس اور حقوق رکھتے ہیں۔ ان پر سیاست نہیں ہو سکتی۔ بم نہیں برسائے جا سکتے۔ گردن میں پٹا ڈال کر گھسیٹا نہیں جا سکتا۔ ان کی نسل کُشی نہیں ہو سکتی۔ ان کو گالی نہیں دی جا سکتی۔

آپ کو گالی سنائی اس لیے نہیں دیتی کہ آپ کے کان سے چند انچ کے فاصلے پر مسجدِ ضرار کا بلند بانگ لاؤڈ سپیکر نصب ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اس موسیقی کی رسیا قومیں صورِ اسرافیل تک نہیں سن پائیں گالی تو پھر بشر کی آواز ہے۔

یہ تو تھی وہ حالت جو ملتِ بیضا اور اس کے دین کے وقار کی ہو چکی ہے۔ اب فقرے کے دوسرے حصے کو دیکھ لیتے ہیں۔ یعنی ملّا کو گالی۔اس دین فروش کے غلاموں کو یاد بھی نہ ہو گا کہ حلاج اور منصور کو پھانسی دینے والی ذاتِ شریف یہی تھی۔ خلفائے راشدین کے بعد ملوک کو امیر المومنین قرار دینے والے فقہا اسی کے اسلاف تھے۔ بجلی کے پنکھے اور لاؤڈ سپیکر سے لے کر ریڈیو، ٹی وی اور انٹرنیٹ وغیرہ تک ہر مفید مطلب شے کو حرام قرار دینے اور بعد میں ختنے کر کے اس کے حقوق اپنے نام لکھوانے  کا طلائی سہرا انھی جناب کے سر ہے۔ استبداد اور استحصال کی ہر حکومت کا جواز اپنے وقیع فتاویٰ کی مدد سے اسی حکیمِ یگانہ نے پیش کیا۔ امت کے زوال کی داستانِ دراز کا بطلِ جلیل جو نہ صرف زوال کو روک نہ سکا بلکہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا یہی مردِ مومن ہے۔ جس کی زبان اور ہاتھ سے باقی مسلمان تو کیا خود اس کے ہم مسلک محفوظ نہ رہے وہ یہی بت شکن ہے۔

اقبالؒ کی لاش پر حق جما لینے والے اسی فردِ فرید کی نسبت اقبالؒ نے کہا تھا:

قوم کیا چیز ہے قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا جانیں یہ بیچارے دو رکعت کے امام

اور اقبالؒ ہی پر کیا موقوف، اسلام میں تصوف، تمدن اور ادب کی پوری تاریخ ملّا کے مضحکے اور اہانت سے پر ہے۔ کس کس کے خلاف فتویٰ دے گا مولوی؟ کس کس کے خلاف دے نہیں چکا؟ کیا کیا چھپائے گا؟ کب تک چھپائے گا؟

شاید آپ نہ جانتے ہوں۔ شاید آپ کو اسلامی تہذہب، تمدن اور تاریخ کا محض اتنا ہی علم ہو جتنا ملا نے برہمنوں کی طرح آپ کو دینا قرینِ مصلحت سمجھا ہے۔ مگر میں آپ کو ایک دلچسپ بات بتانا چاہتا ہوں۔ یہ ملّا جسے  دی جانے والی گالی آپ اسلام کو گالی خیال کرتے ہیں، اسلامی تاریخ کا وہ کردار ہے جسے اکابرینِ تمدنِ اسلامی کی جانب سے بلامقابلہ سب سے زیادہ گالیاں پڑی ہیں۔ یہ بھی اسی کی خوشی نصیبی ہے کہ ایک فرقے سے تعلق رکھنے کے بعد یہ دوسرے فرقے کے اپنے بھائی بندوں کو خود مغلظات بکتا رہا ہے۔ یہ نوشتۂِ تاریخ کون مٹا سکتا ہے؟ آئینۂِ امروز سے اس بدہئیت عکس کو کون کھرچ سکتا ہے؟ اس ابلہ فریب اور دین فروش طبقے کی نصیب میں ملامت و مذمت تھی، ہے اور رہے گی۔ صوفیا جن کے سر ہندوستان میں اسلام کے شیوع کا سہرا باندھا جاتا ہے ان کی تصانیف ملاحظہ فرمائیے۔ آپ کو شیطان کی اتنی مذمت نہ ملے گی جتنی ملّا کی۔رومیؒ و حافظؒ سے لے کر دردؔ اور ذوقؔ جیسے باکردار مسلمان شعرا کے دیوان بھرے پڑے ہیں۔ رقیبِ روسیاہ کی ملامت کا اس سے تقابل ہی نہیں جو اس ذاتِ شریف کے حصے میں آئی ہے۔

چند مثالیں محض نمونے کے طور پر پیشِ خدمت ہیں۔ سب سے پہلے مولوی جامیؒ جو ہمارے ہاں اپنی نعت گوئی اور عشقِ رسولﷺ کے سبب معروف ہیں۔

شیخ و یاران او به شهوت و آز
چون به سفره کنند دست دراز

یعنی ملّا اور اس کے ساتھی اپنی شہوت و آز کے وہ غلام ہیں جو دسترخوان پر دست درازی کرتے ہیں۔ ایک نہایت معنیٰ خیز بات اس شعر میں یہ ہے کہ سفرہ کا ایک مطلب (سین پر پیش کے ساتھ) مقعد بھی ہے۔ شہوت کے ساتھ اس لفظ کی رعایت اور جامیؒ کی نفرت کا اندازہ خود لگا لیجیے۔

به هیچ زاهد ظاهرپرست نگذشتم
که زیر خرقه نه زنار داشت پنهانی

حافظؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ظاہر پرست نیکو کار ایسا نہیں دیکھا جو اپنے خرقے تلے زنار پوشیدہ نہ رکھتا ہو۔

امتِ مسلمہ کے معروف ترین مصلح و معلمِ اخلاق سعدیؒ کی سنیے:

زهدت به چه کار آید، گر راندهٔ درگاهی؟
کفرت چه زیان دارد، گر نیک سرانجامی

ملّا سے خطاب کر کے کہتے ہیں کہ اگر تو خدا کے ہاں مردود ہی قرار پایا تو زہد کا فائدہ؟ اور اگر حق ادا کر پائے تو کفر میں بھی کیا مضائقہ؟

رومیؒ نے تو حد ہی کر دی ہے۔ یہ وہ بزرگ ہیں جن کی مثنوی کی نسبت "ہست قرآں در زبانِ پہلوی” کا مصرع مشہور ہے۔ فرماتے ہیں:

آن طرف که عشق می‌افزود درد
بوحنیفه و شافعی درسی نکرد

عشق نے جس رخ پر میرے درد میں اضافہ کیا اس کا تو درس  ہی ابو حنیفہؒ اور شافعیؒ نے نہ دیا تھا۔

اردو کی زیادہ مثالیں دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔ صرف چند بزرگوں کے ارشادات ملاحظہ فرمائیے جن کی دردمندی اور خلوص کسی بھی شک و شبہ سے بالا تر ہے۔

میر دردؔ جو اردو میں صوفیانہ شاعری کے امام ہیں ملّا کی ظاہر پرستی پر یوں طنز فرماتے ہیں:

زاہدا شرکِ خفی کی بھی خبر ٹک لینا​
ساتھ ہر دانۂِ تسبیح کے زنّار بھی ہے​

خوش قسمتی کہیے یا بدقسمتی مگر ہندوستان میں اسلامی ثقافت، تمدن اور ادب کا میر تقی میرؔ سے بڑا کوئی نمائندہ نہیں آیا۔ یہ آواز کیا خطاب کرتی ہے سن لیجیے:

داڑھی کو تیری دیکھ کے ہنستے ہیں لڑکے شیخ
اس ریش خند کو بھی سمجھ ٹک تو مسخرے

شیخ ابراہیم ذوقؔ ایک انتہائی مذہبی آدمی ہونے کے حوالے سے معروف ہیں۔ مگر ملّا کی نسبت یہ رائے رکھتے ہیں:

کب حق پرست زاہدِ جنت پرست ہے
حوروں پہ مر رہا ہے یہ شہوت پرست ہے

عربی زبان و ادب کا میں عالم نہیں مگر قیاس کہتا ہے کہ اس میں یہ باتیں اور زیادہ شدت کے ساتھ کی گئی ہوں گی۔

ان حدیثوں کے حوالے دینے کی ضرورت میں نہیں سمجھتا جن میں مثلاً رسول اللہﷺ نے زمانۂِ آخر میں اپنی امت کےعلما کی نسبت  زیرِ آسمان بدترین مخلوق بن جانے کی پیش گوئی فرمائی ہے۔ کیونکہ میں جانتا ہوں کہ لغت ہائے حجازی کے یہ قارون ایسے دلائل سے نمٹنا بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور ان سے تکرار میں ہارنا کیا اور جیتنا کیا؟

آپ کہیں گے کہ ہر قوم میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آپ کی بات بالکل درست ہے۔ مگر دانش مند قومیں برے لوگوں کی اتباع سے باز رہتی ہیں۔ انھیں امام نہیں بناتیں۔ ظاہر ہے کہ علمائے حق کو برا کوئی بدبخت نہیں کہتا۔ وہ واقعی انبیا کے وارث اور امت کے مربی و محسن ہیں۔ لیکن یہ ریاکار، قل اعوذیے، آیاتِ الٰہی و سنتِ نبویؐ کو بیچ کر اپنے پیٹ کے دوزخ بھرنے والے پیشہ ور امت کے غدار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں کسی اور ملک میں چھوڑ آئیے تو بھوکے مر جائیں۔ یہ تو بھلا ہو اللہ کے دین کا کہ ان کے گھر چل رہے ہیں ورنہ ایسے نالائق اور کندذہن لوگ تو دن بھر میں سو روپیا بھی کمانے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ ان کی نورانی صورتوں کا پردہ رومیؒ نے کیا خوب چاک کیا ہے:

کار پاکان را قیاس از خود مگیر
گر چه باشد در نوشتن شیر و شیر

پاک لوگوں کے کاموں کا قیاس اپنے سے نہ کر۔  شیر (درندہ) اور شیر (دودھ) لکھنے میں ایک جیسے ہی کیوں نہ ہوں ان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

اقبالؒ کے الفاظ میں فی سبیل اللہ فساد کا دین رکھنے والا ملا پہچانا ہی اپنی شر انگیزی کے سبب جاتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کلیم اللہؑ ہوں مسیحِ ناصریؑ ہوں یا خاتم النبیینؐ، انھوں نے منافقین کے ساتھ ایک دسترخوان پر کھانا بھی کھایا ان کے لیے بارگاہِ الہٰی میں دعائیں بھی کیں اور ان کے جنازے بھی پڑھائے۔ مگر یہ ظالم وہ بدبخت ہے جو خود کو ان کا پیرو کہہ کر آئے دن خود مسلمانوں کو ایک دوسرے پر دھاوا بولنے کی ترغیب دیتا نہیں تھکتا۔ کسی حجت کسی نظیر کسی اختیار کے بغیر۔ آج فلاں کافر۔ آج فلاں مرتد۔ آج فلاں منافق۔ آج فلاں زندیق۔

ہاتھ نہ ملاؤ۔ ساتھ نہ کھاؤ۔ سلام نہ کرو۔ بات نہ کرو۔ ملو مت۔ دیکھو مت۔ پڑھو مت۔ سنو مت۔ کوڑے مارو۔ نکال دو۔ آگ لگا دو۔ قتل کر دو!

کسے نماند کہ دیگر بہ تیغِ ناز کشی
مگر کہ زندہ کنی خلق را و باز کشی

ملّا جیسی وحشی اور ننگِ آدمیت مخلوق اگر اپنی ظاہری ہیئت کی بنیاد پر احترام کا تقاضا کرے اور خود کو دین کے مترادف قرار دے دے تو انا للہ و انا الیہ راجعون۔  میں کہتا ہوں کہ اسلام کو اس سے بڑی گالی کوئی اور نہیں پڑ سکتی!

ایک رائے “ملّا اور گالی”

تبصرہ کیجیے