زیب دیتا نہیں بندے کو خدا ہو جانا

زیب دیتا نہیں بندے کو خدا ہو جانا
ورنہ دشوار ہے کیا خود میں فنا ہو جانا

زہر کے واسطے ممکن ہے دوا ہو جانا
تیرے بیمار کو تجھ سے ہی شفا ہو جانا

ہم کوئی ترکِ وفا کرتے ہیں اے دل لیکن
اس طرح مرنے پہ تیار بھی کیا ہو جانا

یاد کو کیوں نہ کہیں زلزلۂِ عالمِ دل
آن کی آن میں طوفان بپا ہو جانا

بدگمانی سے بچیں ہم بھی کریں گے کوشش
تم بھی آئینے سے محتاط ذرا ہو جانا

نئے احمق نئے دانا نئے شوشے نئے خبط
اسے کہتے ہیں زمانے کا نیا ہو جانا

اس نے دیکھا بھی تو دیکھے نہ گئے ہم یا رب
تھی اسی تیر کی تقدیر خطا ہو جانا

مت زباں بول کسی کی کہ میسر ہے ہمیں
آنکھوں آنکھوں میں ہر اک مطلب ادا ہو جانا

کیسے مایوس ہو وہ جس نے کبھی دیکھا ہو
بند ہوتے ہوئے دروازے کا وا ہو جانا

اپنی پروازِ تخیل بہ زمینِ غالبؔ
دیکھ کر دام پرندے کا ہوا ہو جانا

ہائے راحیلؔ سے مستغنئِ دو عالم کا
ان کی گلیوں میں پہنچنا تو گدا ہو جانا

راحیلؔ فاروق

2 تبصرہ جات: “زیب دیتا نہیں بندے کو خدا ہو جانا”

تبصرہ کیجیے