میں ہوں وہ آنکھ جسے خونِ جگر لے ڈوبے

میں ہوں وہ آنکھ جسے خونِ جگر لے ڈوبے
میں وہ نالہ ہوں جسے اس کا اثر لے ڈوبے

میں ہوں وہ رات ستارے جسے گہرا کر دیں
میں ہوں وہ بزم جسے رقصِ شرر لے ڈوبے

وہ مئےِ تند ہوں میں جس سے جگر چِر جائے
میں وہ دریا ہوں جو اپنا ہی گہر لے ڈوبے

وہ صنم میں نے تراشے کہ خدا چونک اٹھے
میں وہ آزر ہوں جسے مشقِ ہنر لے ڈوبے

گرد کو بھی نہ پہنچ سکتے تھے رہزن جن کی
انھیں منزل سے بھی آگے کے سفر لے ڈوبے

وہ جو پھرتے تھے خبر تیرگیوں کی لیتے
اِدھر آئے تو کئی چاند اِدھر لے ڈوبے

کیسے خاموش اندھیروں میں چھپے بیٹھے ہیں
ایسے اندھیر کہ امیدِ سحر لے ڈوبے

ابنِ آدم کی تو بو تک نہ رہی گلیوں میں
میری بستی کو خداؤں کے یہ گھر لے ڈوبے​

نام لیواؤں کو اپنے کبھی خلوت میں پرکھ
اس تماشے کو یہی شعبدہ گر لے ڈوبے

میرے ہم راز نے کیا خوب کہا تھا راحیلؔ
تجھے ممکن ہے یہی ذوقِ نظر لے ڈوبے

راحیلؔ فاروق

پس نوشت: یہ غزل زار میں شامل تھی اور نظر ثانی کے بعد دوبارہ یہاں پیش کی گئ ہے۔

تبصرہ کیجیے