مضمون، خیال اور معنیٰ - اردو نگار

مضمون، خیال اور معنیٰ

اردو شاعری پر جمود کا الزام سب سے پہلے حالیؔ نے عائد کیا۔ بعد کو اس سے بڑا جمود اس الزام کی روایت میں پیدا ہو گیا جو تاحال چلا آتا ہے۔ یعنی کسی کو یہ خیال نہیں آیا کہ حالیؔ کا یہ الزام درحقیقت کس تناظر میں تھا اور اس سے ان کا مقصود کیا تھا۔ ہر کس و ناکس نے یہی پتھر اٹھایا اور تاک کر بیچاری غزل کو کھینچ مارا عام اس سے کہ اسے معاملے کا فہم تھا یا نہیں۔ فکرِ ہر کس بقدرِ ہمتِ اوست کے مصداق، اردو کے کوتاہ ہمت ناقدین نے اس الزام کو اپنی تکرار سے تقویت تو دی مگر اس کا صحیح پس منظر سمجھنے میں بری طرح ناکام رہے۔

شوپن ہاؤر نے ہیگل کے فلسفے کو لایعنی قرار دیا ہے اور بوجوہ اس سے سخت نفرت کا اظہار کیا ہے۔ فرض کیجیے موصوف کا یہ خیال کسی ایسے بزعمِ خویش دانشور کو معلوم ہو جاتا ہے جو تمام عمر ہیگل کو سمجھنے ہی سے قاصر رہا ہے۔ شوپن ہاؤر کی یہ رائے اس دانشور کے لیے ایک نعمتِ غیرمترقبہ سے کم ثابت نہیں ہوتی اور وہ جابجا اسے اپنی کوڑھ مغزی کے دفاع میں استعمال کرنے لگتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا شوپن ہاؤر کے اعتراضات اور ہمارے دانشور کی نکتہ سنجیاں ایک جتنی وقعت کی حامل ہوں گے؟ یا کیا اس ہیچمدان کی تنقید کو شوپن ہاؤر کے اٹھائے گئے نکات کے تسلسل میں دیکھنا مناسب ہو گا؟ کیا یہ شدید ناانصافی نہیں ہو گی کہ شوپن ہاؤر کے محاکمے کو، جو ہیگل ہی کی طرح دراصل کانٹ کا خوشہ چین تھا اور ہیگل کا ہم عصر و ہم وطن تھا، ایک ایسے شخص کی جاہلانہ رائے کے موافق سمجھا جائے جسے اس پورے پس منظر سے دور دور تک کوئی علاقہ نہیں؟

میرا خیال ہے کہ ہم لوگوں نے حالیؔ کی رائے کے ساتھ بالکل یہی کیا ہے۔ وہ ہماری شاعری کی روایت کے امین تھے۔ ہمارے کلاسیک شعرا کے معاصر تھے۔ ہمارے علوم کا مخزن تھے۔ اپنی روایت اور علوم کی بابت ان کی ناقدانہ آرا کو ایسے لوگوں نے اچھالنا شروع کر دیا ہے جن کا اس روایت اور علوم سے دور دور تک نہ صرف کوئی تعلق نہیں بلکہ وہ ان تک چاہیں بھی تو نہیں پہنچ سکتے۔ سونے پہ سہاگہ یہ ہے کہ ان کندگانِ ناتراش کے سوا ہمارے پاس کوئی اور شخص ان معاملات پر بات کرنے کے ہمت ہی نہیں کرتا۔ اندھیرنگری میں کانے راج کر رہے ہیں اور اندھے ریوڑیوں پر جھگڑ رہے ہیں۔

جمود کا وہ الزام جو حالیؔ نے اردو شاعری پر عائد کیا تھا اس کا ایک مفہوم یہ لے لیا گیا ہے کہ اردو شاعری میں خیالات ختم ہو گئے تھے یا شاید سرے سے تھے ہی نہیں۔ حالی زندہ ہوتے تو شاید یہ بہتان سن کر احتجاجاً مر جاتے۔ کیا غضب ہے کہ غالبؔ جیسے نکتہ آفریں ہنرور کے شاگردِ رشید سے ایسا لغو خیال منسوب کر دیا جائے!

بنظرِ غائر دیکھا جائے تو حالیؔ کا اعتراض فقط یہ تھا کہ اردو شاعری میں موجود خیالات برصغیر کے حالات کے موافق نہیں اور ان کی افادی حیثیت مشکوک ہے۔ ان کی مصلحانہ اور ناقدانہ حیثیت کا پورا وزن درحقیقت اسی نکتے میں پوشیدہ ہے۔ ورنہ یادگارِ غالبؔ اور خود مقدمہ میں انھوں نے جابجا غالبؔ اور دیگر اساتذہ کے اشعار کی خیال آفرینی کی جانب توجہ دلائی ہے اور ان کی ستائش میں بھی کسی کنجوسی سے کام نہیں لیا۔

خیالات کی ندرت کو دراصل دو نقطہ ہائے نظر سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک عمومی اور دوسرا خصوصی۔ عمومی نقطۂِ نظر یہ ہے کہ بڑے اور عمدہ خیالات چند ایک ہی ہیں جو قدیم سے چلے آتے ہیں اور انھیں بار بار نئے رنگ میں پیش کیا جاتا رہا ہے۔ یہی خیال سیفؔ نے اپنے اس مشہور شعر میں نظم کیا ہے:

سیفؔ، اندازِ بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں​

اس رنگ میں دیکھا جائے تو واقعی تمام تر فن، ادب یہاں تک کے مذہب کے مباحث بھی دراصل تکرار کے نمونے ہیں۔ عالمی ادب میں کوئی ایسی قدر دریافت کرنا محال ہے جس کے ڈانڈے ماضی سے نہ ملتے ہوں۔ اور تو اور، قرآن نے بھی کوئی ایسی نئی بات نہیں کی جو اس سے پیشتر تورات، زبور یا اناجیل میں مذکور نہ ہو۔ بلکہ وہ جابجا خود کو انھی پیغامات کا مصدق قرار دیتا ہے جو اس سے پیشتر مختلف قوموں کو ارسال کیے گئے تھے۔

دوسرا نقطۂِ نظر خصوصی ہے۔ اس کے مویدین خیالات کو وسیع طور پر اور آفاقی پیمانوں پر نہیں جانچتے بلکہ مخصوص ادبی، ثقافتی، روایتی، فنی وغیرہ پس منظر میں ان کی ندرت کا جائزہ لیتے ہیں۔ عوام کا کسی خیال کوپرکھنے کا نقطۂِ نظر دراصل یہی ہے کیونکہ وہ تاریخ اور تفکر سے بیگانہ ہوتے ہیں۔ اس محدود تناظر میں اکثر ایسے خیالات نادر قرار پاتے ہیں جو عمومی نقطۂِ نظر سے دیکھے جائیں تو کچھ خاص اہمیت نہیں رکھتے۔ ادب میں کسی خیال کی ندرت کا جانچنے کا پیمانہ بھی روایتی طور پر یہی رہا ہے۔ یعنی ادیبوں کے افکار کی جدت ان کی اپنی ادبی روایت کے تناظر میں طے کی جاتی ہے نہ کہ عالمی ادب یا آفاقی اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے۔

اب جب کہ ہم نے خیالات کی جدت و ندرت کا جانچنے کا پیمانہ سمجھ لیا ہے، ہم اردو شاعری میں اس کے اطلاق پر غور کرتے ہیں۔

ہمارے ہاں دو تین الفاظ کم و بیش ایک دوسرے کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتے رہے ہیں مگر بہتر ہو گا کہ ہم ان کی حیثیت متعین کر لیں۔ یہ الفاظ ہیں مضمون، خیال اور معنیٰ۔

مضمون دراصل ہماری شاعری کا وہ نظام ہے جس کے مختلف عناصر کو کام میں لا کر شاعر ابلاغ کرتا ہے۔ مضامین حقیقی دنیا سے یا روایات سے اخذ کیے جاتے ہیں اور ہماری شعری روایت میں ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلبل کا پھول سے عشق، آشیانے اور قفس کی زندگی، زلف اور شب کا سیاہی اور طوالت میں تقابل، محبوب کی ستم پیشگی اور بےوفائی، ساقی اور شراب کی باتیں وغیرہ اردو اور فارسی شاعری کے کلاسیک مضامین یا ابلاغی نظام ہیں۔

خیال وہ طرز ہے جس سے شاعر مضمون کو ادا کرتا ہے۔ بالفاظِ دیگر، یہ نظام کے مختلف عناصر کی اس ترکیب کا نام ہے جو کسی شعر میں پیش کی گئی ہے۔ یہ ترکیب اساتذہ کے اکثر اور عام شعرا کے ہاں بعض اوقات نادر ہوتی ہے۔ اسی صورت میں اسے ہم نیا خیال قرار دیتے ہیں۔ یعنی خیال کی جدت کا معنی یہ ہے کہ شاعر مثلاً شبِ ہجر کی طوالت اور اس سے متعلق تلازموں کو ایک ایسی ترتیب سے پیش کر دے جو اس سے پہلے موجود نہ ہو۔

معنیٰ خیال کا نتیجہ ہے۔ یعنی ایک مخصوص ابلاغی نظام کے مختلف عناصر کی ترکیب سے جو فکری اثر پیدا ہوتا ہے اسے معنیٰ کہتے ہیں۔

اس نظر سے دیکھا جائے تو حالیؔ کا اردو غزل پر اعتراض صرف اس قدر ہے کہ اس کے مضامین فرسودہ اور پائمال ہیں۔ اس اعتراض میں وزن بھی ہے۔ مگر حالیؔ کو یقیناً ہائیکو سے تعارف نہ تھا ورنہ وہ ‘این گناہیست کہ در شہرِ شما نیز کنند’ کے مصداق غزل کے مضامین سے اس قدر برگشتگی کا اظہار نہ کرتے۔ پھر کلاسیک یونانی المیہ کو دیکھا جائے تو وہاں بھی معدودے چند مضامین کے علاوہ کچھ نہیں ملتا۔ بوطیقا میں ارسطو کی شہادت بھی ہمارے سامنے ہے کہ وہی پائمال فسانے جو یونان کے اکثر لوگوں کو پہلے سے معلوم تھے، ناٹک میں لافانی لطف دیتے تھے۔

بہرحال اعتراض کی حقیقت صرف اس قدر تھی کہ اردو شاعری مضامین کے معاملے میں تنگ دامان ہے۔ مگر اس اعتراض کو خیالات کے فقدان پر جس طرح چسپاں کیا گیا ہے وہ نری بےایمانی اور جہالت ہے۔ خیالات، جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے، مضمون کے اندر بھی پیدا ہو سکتے ہیں اور ہوتے ہیں۔ مضمون کی قدامت سے کسی طور پر خیالات کی قدامت لازم نہیں آتی۔ مضمون کو ایک ایسا پیالہ سمجھنا چاہیے جس میں پیاسا کوئی بھی من چاہا مشروب انڈیل کر پی سکتا ہے۔ پرانے پیالوں میں نئی شراب کس کمبخت نے نہ پی ہو گی؟

اب ہم کچھ ایسے خیالات پیش کرتے ہیں جن کے مضامین تو پرانے ہیں مگر خیالات خود نئے ہیں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ مضمون خیال کو کسی طور پر پابند نہیں کر سکتا۔

آبِ حیات میں آزادؔ نے ذیل کا واقعہ بیان کیا ہے۔

جب فخرِ شعرائے ایران شیخ علی حزیںؔ واردِ ہندوستان ہوئے، پوچھا کہ شعرائے ہند میں آج کل کوئی صاحبِ کمال ہے؟ لوگوں نے سوداؔ کا نام لیا اور سوداؔ خود ملاقات کو گئے۔ شیخ کی عالی دماغی اور نازک مزاجی شہرۂِ آفاق ہے۔ نام نشان پوچھ کر کہا کہ کچھ اپنا کلام سناؤ۔ سوداؔ نے کہا :

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانے میں

​شیخ نے کہا کہ تڑپے چہ معنی دارد (تڑپے کا کیا مطلب ہے)؟ سوداؔ نے کہا کہ اہلِ ہند طپیدن را تڑپنا مے گویند۔ شیخ نے پھر شعر پڑھوایا اور زانو پر ہاتھ مار کر کہا کہ مرزا رفیع قیامت کر دی۔ یک مرغ قبلہ نما باقی بود آ نرا ہم نگذاشتی (ایک مرغِ قبلہ نما بچا تھا تو نے اسے بھی نہ چھوڑا)۔ یہ کہہ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور بغل گیر ہو کر پاس بٹھایا۔ مگر بعض اشخاص کی روایت ہے کہ شیخ نے کہا، در پوچ گویانِ ہند بد نیستی (ہندوستان کے تک بندوں میں تو برا نہیں)۔​

اب ذرا غور فرمائیے۔ بسمل اور صیاد کی کشاکش میں بسمل کی تڑپ ایک ایسا مضمون ہے جو کسی نہ کسی صورت میں آج کی بھی نصف سے زیادہ اردو شاعری پر چھایا ہوا ہے۔ اس مضمون کی پائمالی اور تس پر سوداؔ کی خیال آفرینی کی داد جس طرح حزیںؔ نے دی ہے اس سے چشم پوشی کیا قرینِ انصاف ہے؟

سقراط کا مقولہ معروف ہے کہ میں جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا۔ تقریباً اڑھائی ہزار برس بیت گئے اور یہ مقولہ جوں کا توں رہا۔ لوگ سر دھنتے رہے کہ سقراط کیا نکتہ بیان کر گیا ہے۔ کسی کو جرات نہ ہوئی کہ اس پہ اضافے کا گمان بھی دل میں لائے۔ مسلمانوں کے ادب میں بھی یہ مضمون گاہے گاہے نظم ہوتا رہا۔ پھر میرؔ کا زمانہ آیا۔

ذرا دیکھیے کہ میرؔ نے اسی مضمون میں کیا نادر خیال پیش کر ڈالا:

یہی جانا کہ کچھ نہ جانا، ہائے
سو بھی اک عمر میں ہوا معلوم​

یعنی یہ تو ہے کہ کائنات کے سربستہ رازوں کا کچھ علم حاصل نہ ہو سکا۔ یہاں تک تو میرؔ سقراط سے متفق معلوم ہوتے ہیں۔ مگر جہاں وہ گوئے سبقت لے گئے ہیں وہ اس دکھ کا لازوال بیان ہے کہ یہ راز بھی کمبخت ایک عمر میں کھلا۔ عمر کی رائیگانی کا خیال بےعلمی کے پائمال مضمون میں کس غضب کی فنکاری سے سمو دیا گیا ہے۔ ہائے ہائے ہائے!

قطرے کا دریا میں ملنا وحدت الوجودی شاعری کے نمایاں ترین مضامین میں سے ایک ہے۔ غالبؔ کو سنیے کیا فرماتے ہیں:

قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائے
کام اچھا ہے وہ جس کا کہ مآل اچھا ہے​

اب ذرا کسی ناقد سے کہیے کہ یہ خیال غالبؔ سے پیشتر کہیں اور ڈھونڈ کر دکھائے۔ عموماً تو ہر کوئی کہتا ہے کہ جس کام کا انجام اچھا ہے وہ مستحسن ہے۔ مگر غالبؔ کے سوا کس کا خیال اتنا بلند تھا کہ قطرے اور دریا کی مثال سے اس نکتے کو ایسے حسن سے واضح کرتا؟

اب رہ گیا معنیٰ تو اس کی بابت ہم عرض کر چکے ہیں کہ وہ خیال کا نتیجہ ہے۔ اگر خیال نادر ہو گا تو معنیٰ بھی عمدہ ہو گا۔ خیال پوچ ہو تو معنیٰ بھی رکیک ہوتا ہے۔ اس کی الگ سے مثال پیش کرنا عبث ہے۔ اوپر دی گئی مثالیں جہاں خیال کی ندرت پر دلالت کرتی ہیں وہیں معنیٰ کی رفعت کو بھی بحسن و خوبی سامنے لے آتی ہیں۔

ہمارا خیال ہے کہ یہ گفتگو اہلِ نظر پر یہ ثابت کرنے کو کافی ہے کہ اردو شاعری کا دامن نئے خیالات سے نہ کبھی خالی ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ خیالات کی جدت تو ایک فطری سا معاملہ ہے جس کے بغیر کوئی بھی شاعر اپنے قارئین کو متاثر نہیں کر سکتا۔ رفعتِ تخیل سے بہرہ ور عظیم شعرا تو ایک طرف رہے، عامیوں کی گفتگوؤں میں بھی نئے خیالات کا وجود شاذ نہیں۔ لہٰذا نہ صرف اردو بلکہ کسی بھی زبان کے ادب پر کسی بھی زمانے میں یہ تہمت کافی حد تک غیرفطری ہے کہ وہ نئے خیالات سے عاری ہو گیا ہے۔

جہاں تک مضامین کے فقدان کا تعلق ہے تو وہ اعتراض، جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں، منطقی ہے۔ مگر اب تو خیر سے اردو شاعری میں ترقی پسندانہ اور جدید مضامین بھی راہ پانے لگے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ پرانے مضامین ہنوز پوری طرح متروک نہیں ہوئے اور بعض اوقات نئے مضامین سے زیادہ لطف دیتے ہیں۔ مگر اہم بات پھر وہی ہے کہ مضمون تو سانچا ہے۔ اس کی جدت یا قدامت سے کچھ ایسا فرق نہیں پڑتا۔ قوتِ متخیلہ نئے خیالات ابداع کرتی رہے اور وہ خیالات معاشرے اور قوم کو فائدہ یا کم از کم جذباتی تطہیر کا موقع فراہم کر دیا کریں تو اردو شاعری زندہ رہے گی۔

تبصرہ کیجیے