کیا فتح کیا شکست وہی ڈھب سپاہ کے

کیا فتح کیا شکست وہی ڈھب سپاہ کے
ہیں شاہ سے بھی آگے وفادار شاہ کے

نیت ثواب کی ہے ارادے گناہ کے
مسجد کو جا رہے ہیں طلب‌گار جاہ کے

شبنم شعاعِ مہر کی تنہا نہیں شکار
مارے ہوئے ہیں ہم بھی کسی کی نگاہ کے

انسان تھے بشر تھے میاں آدمی تھے تم
کیا کر دیا ہے ہم نے تمھیں چاہ چاہ کے

پورے تو بندگی کے تقاضے کہاں ہوئے
پتھر ہی گھِس چلے ہیں مری سجدہ گاہ کے

کیا داد دے سکیں گے تمھارے کلام کی
خود رفتگاں نہ آہ کے قائل نہ واہ کے

کلیاں تمھارے ذوق کو کافی نہ ہو سکیں
راحیلؔ چنتے آئے ہو پتھر بھی راہ کے

راحیلؔ فاروق

2 تبصرہ جات: “کیا فتح کیا شکست وہی ڈھب سپاہ کے”

تبصرہ کیجیے