میرے طبیب کی قضا میرے سرھانے آ گئی

میرے طبیب کی قضا میرے سرھانے آ گئی
چارہ گرانِ عشق کی عقل ٹھکانے آ گئی

رات کی خیمہ گاہ میں شمع جلانے آ گئی
آ گئی مہرباں کی یاد آگ لگانے آ گئی

بندہ نواز کیا کروں مجھ کو تو خود نہیں خبر
فرش میں عرش کی کشش کیسے نجانے آ گئی

جس کے وجود کا پتا موت کو بھی نہ مل سکا
اس کی گلی میں زندگی شور مچانے آ گئی

خاک ہوا تو دیکھیے خاک پہ فضل کیا ہوا
کوچۂِ یار کی ہوا مجھ کو اڑانے آ گئی

تیرے وصال کی قسم تیرے جمال کی قسم
ایک بہار عشق پر آ کے نہ جانے آ گئی

راحیلؔ فاروق

3 تبصرہ جات: “میرے طبیب کی قضا میرے سرھانے آ گئی”

تبصرہ کیجیے