آپ سلطان ہوا کیجے گدا ہم بھی نہیں

آپ سلطان ہوا کیجے گدا ہم بھی نہیں
اس قدر تو گئے گزرے بخدا ہم بھی نہیں

اب انا کو کرے سجدہ تو محبت ہی کرے
جبہہ سا آپ نہیں ناصیہ سا ہم بھی نہیں

جائیے جائیے مت دیکھیے مڑ کر پیچھے
ایسے شوقینِ جفا خوارِ وفا ہم بھی نہیں

چارۂِ سرکشئِ دل کریں اللہ اللہ
وہ خدا بندہ نواز آپ تو کیا ہم بھی نہیں

دوستی دشمنی اب آپ نبھائیں تو نبھائیں
ہم کو ربط آپ سے ایسا کوئی باہم بھی نہیں

مہربان آپ بھی ہیں اور بھی ہوں گے لیکن
چاہتے تو دلِ ناداں کا برا ہم بھی نہیں

لاکھ لیلائیں امڈ آئیں غزل پر راحیلؔ
آخر اس دشت کی آوارہ صدا ہم بھی نہیں

راحیلؔ فاروق

3 تبصرہ جات: “آپ سلطان ہوا کیجے گدا ہم بھی نہیں”

تبصرہ کیجیے