کاروبار لہو کا ہے اپنا جب ہوئے گھائل بیچ دیا

کاروبار لہو کا ہے اپنا جب ہوئے گھائل بیچ دیا
گہ گوشوں میں لگی ہے بولی گہ سرِ محفل بیچ دیا

تم اپنا سرمایہ جھونکو اہلِ زمانہ اور کہیں
اونے پونے داموں ہی سہی ہم نے تو دل بیچ دیا

زردئِ گل سے جان ہی لے گا آج نہیں تو کل گلچیں
کاٹ کے پر اور سی کے زباں صیاد نے بسمل بیچ دیا

جس کی کھنک سے فقیہِ شہر تہجد کو جاگ اٹھتا تھا
رقاصہ نے وہ گھنگرو بھی توڑ کے پائل بیچ دیا

جن کو ہنسی آتی ہے بہت مجنوں کی آبلہ پائی پر
سن بیٹھیں گے لیلیٰ نے بھی ناقہ و محمل بیچ دیا

یہ جو گدا ہیں اس کے در کے بندہ و آقا ان میں بھی ہیں
مول چکا کے منعم نے سائل کو سائل بیچ دیا

سَچے عشق کا سُچا موتی بھیک نہیں راحیلؔ میاں
سودا نقد اور نقد بھی ایسا عمر کا حاصل بیچ دیا

راحیلؔ فاروق

ایک رائے “کاروبار لہو کا ہے اپنا جب ہوئے گھائل بیچ دیا”

تبصرہ کیجیے