جب جنوں پر سراب ہنستا ہے

جب جنوں پر سراب ہنستا ہے
خود بھی خانہ خراب ہنستا ہے

ہنستے ہیں ہم حجاب پر ان کے
ہم پر ان کا حجاب ہنستا ہے

زندگی ہے گریز پا تو ہو
پھیر کر منہ شباب ہنستا ہے

گو حقیقت شناس ہیں دونوں
آنکھ روتی ہے خواب ہنستا ہے

کون روتا ہے جا کے زم زم پر
کون پی کر شراب ہنستا ہے

اک تبسم ہے ضبط کے لب پر
اک ہنسی پیچ و تاب ہنستا ہے

آنسوؤں کا جواب ہے لیکن
ہنس کہ تو لاجواب ہنستا ہے

غم نہ ہو جو ردیف میں راحیلؔ
بےحد و بےحساب ہنستا ہے

راحیلؔ فاروق

4 آرا و خیالات “جب جنوں پر سراب ہنستا ہے”

تبصرہ کیجیے