تیرے کوچے میں جا کے بھول گئے

تیرے کوچے میں جا کے بھول گئے
خود کو ہم یاد آ کے بھول گئے

زخم خنداں ہیں آج بھی میرے
آپ تو مسکرا کے بھول گئے

بحث گو ناصحوں نے اچھی کی
مدعا سٹپٹا کے بھول گئے

جو بھلائے نہ بھولتے تھے ستم
سامنے ان کو پا کے بھول گئے

کون تھے کیا تھے ہم کہاں کے تھے
جانے کس کو بتا کے بھول گئے

ہم تو خیر ان کو بھولتے تھے کہاں
وعدے لیکن وفا کے بھول گئے

ایسے بھی کیا الاؤ بجھتے ہیں
دل کو سمجھا بجھا کے بھول گئے

ہائے آنکھیں تو ہم بھی رکھتے تھے
ہائے ہم تو ملا کے بھول گئے

بھول جاتا ہے آدمی لیکن
آپ نزدیک لا کے بھول گئے

عشق راحیلؔ اسی کو کہتے ہیں
رنج اٹھائے اٹھا کے بھول گئے

راحیلؔ فاروق

ایک رائے “تیرے کوچے میں جا کے بھول گئے”

تبصرہ کیجیے