صاحبؐ تیری چاکری اور خدا کا نام
اور بھلا کیا چاہیے، دو میں دین تمام
راحیلؔ فاروق
(۹ اپریل ۲۰۱۶ء)

دونوں کے محبوب تھے مدنی پاک حضورؐ
آپ بلا کر مل لیے، ہم بیٹھیں مہجور
راحیلؔ فاروق
(۱۰ اپریل ۲۰۱۶ء)
وصل کی فکر اب کون کرے؟ دعوائے محبت کس کو ہے؟
ناصح جان کے لاگو ہو تو عشق کی فرصت کس کو ہے؟

پاس رکھو یا آگ لگا دو، میری بلا سے لے جاؤ
جو کم بخت کے تیور ہیں اس دل کی ضرورت کس کو ہے؟

قبلہ و کعبہ، واعظِ دوراں، حسنِ بیاں کی ہو گئی حد
حوروں کے تو قصے پڑھے ہیں دیکھا حضرت! کس کو ہے؟

میری حالت غور سے دیکھو صاف پتا چل جائے گا
کس کو ہے آزار کا سودا؟ پاسِ مروت کس کو ہے؟

کون صفائی مانگ رہا ہے؟ کس کو جور عزیز نہیں؟
چھیڑ کی بات الگ ہے، پیارے! ورنہ شکایت کس کو ہے؟

غم کا مداوا شدتِ غم سے اچھا اور نہیں راحیلؔ
فرقت میں جو ہوش گئے ہیں اب غمِ فرقت کس کو ہے؟

راحیلؔ فاروق

اکتوبر ۲۰۱۶ء
لوگوں سے توقع تھی کہ دیوانہ سمجھتے
سرکار مگر آپ تو ایسا نہ سمجھتے!

سب حشر اٹھائے ہوئے امید کے ہیں، کاش
بیگانہ سمجھتے تجھے اپنا نہ سمجھتے

اب دیکھ لیا ہے تو مکرتے نہیں ورنہ
ہم لوگ تو اس حسن کو افسانہ سمجھتے

یعنی کہ ستم کو بھی کرم جان کے خوش ہوں
دیوانہ سمجھتے مگر اتنا نہ سمجھتے

حافظؔ کے تصوف نے کیا شیخ کو گمراہ
میخانے کو حضرت ہیں صنم خانہ سمجھتے

سمجھانے کو کوڑا نہ اگر عشق کا ہوتا
راحیلؔ میاں خاک بھی واللہ نہ سمجھتے

راحیلؔ فاروق

۲۱ نومبر، ۲۰۱۶ء
چائے کم بخت تو نے پی ہی نہیں! - دل دریا

ایک جوگی تھا۔
نروان کی کشش کشاں کشاں اسے زندگی کی رنگینیوں سے دور تبت کے پہاڑوں میں کھینچ لے گئی اور وہ ایک کھوہ میں آسن جما کر براجمان ہو گیا۔
مدتیں بیت گئیں۔ جوگی تپسیا میں گم رہا۔
سورج اور چاند کے پھیرے لگتے رہے۔ بہاروں کی دھومیں، خزاؤں کی سرسراہٹیں، گرمیوں کے ڈھنڈورے اور سردیوں کے سناٹے آتے جاتے رہے۔ پہاڑوں پر سبزہ اترتا چڑھتا رہا۔ برفیں جمتی پگھلتی رہیں۔ چرند پرندے مرتے اور پیدا ہوتے رہے۔ منظر بدلتے رہے۔ مہینے، سال، دہائیاں، صدیاں، شاید زمانے گزر گئے۔
جوگی کا دھیان نہ ٹوٹا۔
محبت بڑی شے ہے۔ بڑی طاقت ہے۔ بشر کو فوق البشر بنا دیتی ہے۔ پھر انسانوں کی محبت سے بھی بڑی طاقت نظریات کی محبت ہے۔ لیلیٰ بنت مہدی کی محبت مجنوں بناتی ہے مگر لیلائے خیال کا عشق انسان کو منصور بنا دیتا ہے۔ ہمارا تپسوی دوسری راہ کا مسافر تھا۔ عرفان کا دیوانہ، شعور کا شیدائی، بیداری کا پیمبر۔
وقت گزرتا رہا۔ کھوہ کے باہر کی دنیا منقلب ہو گئی۔ کھوہ کے اندر جوگی وہی کا وہی رہا۔ کھوہ بھی وہی کی وہی رہی۔ اسے اکتاہٹ کا اثر کہیے، تھکن کا نتیجہ، فطرت کا اقتضا یا پھر تقدیر کا کھیل۔ ایک انہونی اس جمود کی کوکھ میں کلبلانے لگی۔
جوگی پر اونگھ طاری ہونے لگی۔ بالکل غیرمحسوس انداز میں اس کے دھیان میں بے دھیانی سرایت کرنے لگی۔ انہونی سر نکال رہی تھی۔
ایک دن بیٹھے بیٹھے جوگی کی آنکھیں مند گئیں۔
قیامت ایک لمحے میں آئی اور اسی میں گزر بھی گئی۔ حاصل سے لاحاصل کا سفر سچ مچ پلک جھپکنے ہی میں طے ہو گیا۔ وہ سنبھلا مگر تب تک چڑیاں کھیت چگ گئی تھیں۔ تپسیا اکارت چلی گئی تھی۔ مدتوں کی محنت غارت ہو چکی تھی۔ دھیان ٹوٹ گیا تھا۔
تپسوی جلال میں آ گیا۔ کہتے ہیں کہ اس نے اپنی پلکوں میں انگلیاں ڈالیں اور انھیں نوچ کر سامنے پھینک دیا۔ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ اس کے بعد اس نے پھر سے آسن جمایا اور عبادت میں محو ہو گیا۔
اب آنکھیں کیسے مند سکتی تھیں؟ اس شیش محل کے جلووں کو کون روک سکتا ہے جس کے دروازے ہی اکھیڑ ڈالے گئے ہوں؟ خون جوگی کی آنکھوں سے رس رس کر کھوہ کی مٹی میں جذب ہوتا رہا۔ کون جانتا تھا کہ تبھی ایک اور انہونی نے جنم لے لیا تھا۔
دن گزرتے گئے۔
ایک کونپل نے زمین سے سر نکالا اور رفتہ رفتہ نمو پاتی گئی۔ اٹھتی اٹھتی ایک دن وہ جوگی کی آنکھوں کے مقابل جا پہنچی۔ دھیان پھر ٹوٹ گیا۔ جوگی نے حیرت سے اس نونہال پر نگاہ کی جو ان پتھروں کا سینہ چیر کر نکل آیا تھا۔ کیا یہ کوئی نیا امتحان تھا؟
نہیں۔ حکایت کہتی ہے کہ یہ دراصل ایک بہت بڑا انعام تھا۔ جو گی کے لیے ہی نہیں، تمام انسانوں کے لیے۔۔۔
اس پودے کو دنیا آج "چائے" کے نام سے جانتی ہے۔ بیداری، شعور اور آگہی کا استعارہ!
ہائے، کم بخت! تو نے پی ہی نہیں​
(ماخوذ)
تامل، تذبذب، تردد، تکلف
محبت کی جھوٹی ادا کاریاں، اُف!

اسے جاننے والے پہچانتے ہیں
ستم گر کا ہے نام اس کا تعارف

مجھے عشق نے ہر دو عالم دکھائے
نہ میں فلسفہ داں نہ اہلِ تصوف

محبت تھی دنیا سے، دنیا نے مارا
محبت پر افسوس، محبوب پر تُف!

مِرا حاصلِ عمر مَیں ہوں، الٰہی!
سراپا ندامت، سراپا تاسُف

ادھر تم چلے اور ادھر جان نکلی
کہاں کا تحمل؟ کہاں کا توقف؟

غزل یہ ہے راحیلؔ شانِ تغزل
اسے کہتے ہیں قافیے کا تصرف

راحیلؔ فاروق

۱۶ نومبر، ۲۰۱۶ء
تجھے دیکھا، غزل نئی لکھی
ایک پڑھ لی تو دوسری لکھی

حسن کو جانتا بھی تھا، جس نے
میری قسمت میں عاشقی لکھی؟

دل پہ تھا قرض تیرے ہونٹوں کا
ہم نے جو بات بھی سنی، لکھی

تو نے پھر سے بدل دیے کردار؟
یا کہانی ہی دوسری لکھی؟

نقشِ عالم برا بھلا کھینچا
لوحِ محفوظ پائے کی لکھی

دلِ ناداں کو باندھ رکھ راحیلؔ
ساری دنیا ہے اب پڑھی لکھی

راحیلؔ فاروق

۲۰۱۰-۱۱ء
وقت بیتا محبت پرانی ہوئی
جو کہانی نہ تھی وہ کہانی ہوئی

وقت کی ناؤ کے ناخدا ہم نہ تھے
رہ گئی جی ہی میں جی کی ٹھانی ہوئی​

ہُو کا عالم ہے کیوں دل کی اقلیم میں؟
کس شہنشاہ کی حکمرانی ہوئی؟​

تھی غمِ رائگانی کی فرصت کسے؟
آرزو میں بسر زندگانی ہوئی​

سر اٹھایا نہ جنبش لبوں کو ہی دی
گفتگو دھڑکنوں کی زبانی ہوئی

دل یونہی دشمنِ جاں نہیں ہو گیا
کوئی مَنّت ہے کافر نے مانی ہوئی

مفت پائی نہیں دولتِ بےخودی
کوچے کوچے کی ہے خاک چھانی ہوئی

دے دیا تھا دلِ فتنہ گر بھی اُسے
پھر بھی راحیلؔ غارت جوانی ہوئی

راحیلؔ فاروق 

۳ نومبر، ۲۰۱۶ء​
(اوزانِ رباعی پر ایک بحث کے ردِ عمل میں مزاحاً کہی گئی)

اوزانِ رباعی کی نہ کر بسم اللہ 
اس بحث کا انجام ہے انا للہ 
یعنی موت اور وہ بھی عروضی والی 
لا حول و لا قوۃ الا باللہ​ 

راحیلؔ فاروق

۳۰ اکتوبر، ۲۰۱۶ء
یاد رکھتا ہے مجھے، بھول بھی جاتا ہے مجھے
اس تردد میں تکلف نظر آتا ہے مجھے

آپ کہتے ہیں کہ میں صبر نہیں کر سکتا
دل تو کچھ اور ہی افسانہ سناتا ہے مجھے

پیرِ گردوں کی عنایت ہے کہ دن اچھے ہیں
تلملاتا ہے تو تارے بھی دکھاتا ہے مجھے

بے خودی ہے کہ محبت ہے کہ غم ہے کہ امید
تیری محفل میں کوئی کھینچ کے لاتا ہے مجھے

ایک تجھ کو ہی نظر میں نہیں آتا ورنہ
ڈھونڈنے جو بھی نکلتا ہے سو پاتا ہے مجھے

سوجھتی ہے تجھے ہر روز اسی کی دھمکی
جس قیامت کا تصور بھی رُلاتا ہے مجھے

تجھ سے بڑھ کر تو یہ دربان ستمگر نکلا
ہائے ظالم تری چوکھٹ سے اٹھاتا ہے مجھے

جب کہ مرنے کی تمنا بھی ہے آثار بھی ہیں
کوئی معلوم کرو کون بچاتا ہے مجھے؟​

استقامت اسے چھو کر نہیں گزری راحیلؔ
کبھی عاشق، کبھی دیوانہ بتاتا ہے مجھے

راحیلؔ فاروق

۲۸ اکتوبر ۲۰۱۶ء​
حسن تھا یا کمال تھا، کیا تھا؟
عشق تھا یا زوال تھا، کیا تھا؟

کیا سنائیں جو حال تھا، کیا تھا؟
کون کافر جمال تھا، کیا تھا؟

کیا ہوا رات دل کی گلیوں میں
چور تھا، کوتوال تھا، کیا تھا؟

کھو دیے پر ملال ہے، کیوں ہے؟
دل تمھارا ہی مال تھا، کیا تھا؟

کوئی منزل نہ تھی اگر غم کی
رستہ کیوں پائمال تھا، کیا تھا؟

جو صدا اس کے در پہ کر آئے
آہ تھی یا سوال تھا، کیا تھا؟

میں سخن ور ہوں یا شکاری ہوں
وہ غزل تھا، غزال تھا، کیا تھا؟​

عمر کس دھن میں کاٹ دی راحیلؔ
تھا بھی کچھ یا خیال تھا، کیا تھا؟

راحیلؔ فاروق

۲۵ اکتوبر ۲۰۱۶ء​
ستم روز روز اے ستم گر نہ ڈھا
کسی روز محشر بپا کر دکھا

جفا دے رہی ہے سبق ضبط کا
ادھر ابتدا اور ادھر انتہا

مبارک ہو سرکار میں مر چلا
مبارک ہو دل آپ کا ہو گیا

تری شکل وحشی نے کیوں دیکھ لی
دل اب مجھ کو صحرا میں لے جائے گا

بھلا ہو ترے مخبروں کا مگر
مرا حال خود بھی کبھی دیکھ جا

اسے دیکھ کر بات کیا کیجیے
مگر واہ وا، واہ وا، واہ وا!

یگانہ ہوں میں اور زمانہ ہے تو
اکیلا چنا بھاڑ پھوڑے گا کیا؟

خدا شاعری کی سمجھ دے اسے
غزل میں تو راحیلؔ سب کہہ دیا

راحیلؔ فاروق

ستمبر ۲۰۱۶ء