راحیل فاروق

اردو بلاگر

مقصودِ مساعی کو سمجھتے ہی نہیں
اوزانِ سباعی کو سمجھتے ہی نہیں
میں ہوں کہ مجھے صاف نہ کہنا آیا
تم ہو کہ رباعی کو سمجھتے ہی نہیں!


راحیلؔ فاروق

۲۰۰۶ء
حسن پر عشق کا اثر کر دوں
آ، تجھے چوم کر امر کر دوں

رات کیا شے ہے طُور کے آگے؟
ایک جلوہ دکھا، سحر کر دوں

سب سمجھتا ہوں، چاہتا ہوں مگر
غلطی جان بوجھ کر کر دوں

نہ کروں مر کے داستاں انجام
زندگی عشق میں بسر کر دوں

دل میں امید کی جگہ کم ہے
تیرے غم کو ادھر ادھر کر دوں؟

سرخ پھولوں کا ذوق، اُف اللہ
چیر دوں دل، لہو جگر کر دوں

کچھ تو ایسے گناہ ہیں، راحیلؔ
عاقبت جان لوں مگر کر دوں

راحیلؔ فاروق

۱۷ ستمبر ۲۰۱۶ء
جان واری ہے جہاں، دل بھی تو ہارا ہو گا
اب بھلا خلد میں کیا خاک گزارا ہو گا؟

یہی یاری ہے کہ تو ایک زمانے کا ہے یار؟
ہم بھی دو چار کے ہو جائیں، گوارا ہو گا؟

ہجر کی رات کوئی کام تو ہوتا نہیں اور
سوچتے ہیں کہ کوئی تجھ سے بھی پیارا ہو گا؟

محتسب خاک دھرے گا ہمیں میخانے میں؟
ہم تو ہوں گے ہی، وہاں شہر بھی سارا ہو گا

کون کرتا ہے ترے عشق کی تہمت کا دفاع؟
جس پہ الزام لگے گا، اسے یارا ہو گا؟

سن کے راحیلؔ کے اشعار وہ فرماتے ہیں
نہ سہی کام کا، شاعر تو بچارا ہو گا!

راحیلؔ فاروق

۱۴ ستمبر، ۲۰۱۶ء
اردو محفل میں ایک بہت خاص بات ہے۔ میں نہیں جانتا کہ یہ خصوصیت محض اتفاق کا شاخسانہ ہے یا اس کے پیچھے کوئی حکمتِ عملی کارفرما ہے۔ بہرحال، ہے یوں کہ زبانوں کے حوالے سے بعض نہایت غیرمعمولی لوگ اس فورم پر موجود ہیں۔ بڑے صاحبِ علم، بڑے شائستہ، بڑے روشن نگاہ، بڑے زیرک۔ ان لوگوں کی شناخت شاید پاک و ہند کے ادبی منظر نامے پر اتنی واضح نہ ہو مگر ظالموں کے گن ایسے ہیں کہ کیا ہی بتاؤں۔ یعنی خود ہمارا ادبی منظر نامہ تو ان کے نہ ہونے سے مشکوک ہو سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں کہ کوئی ان کی طرحداریاں دیکھ لینے کے بعد ان سے نظر پھیر سکے۔
محفل پر میری رکنیت ۲۰۱۲ء سے ہے۔ معاشقے کو شاید ابھی ایک سال بھی نہیں ہوا۔ مشہور ہے کہ رات بھر یوسف و زلیخا کا قصہ چلتا رہا اور صبح کسی گنوار نے پوچھا، "یہ زلیخا کون تھی؟" اس امکان سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ موصوف میرے کوئی دور کے رشتہ دار رہے ہوں۔ کیونکہ بعینہٖ یہی گنوار پنا میں نے بھی محفل کے حوالے سے ظاہر کیا ہے۔ یعنی رکنیت کے ایک عرصہ بعد تک مجھے معلوم ہی نہیں تھا کہ محفل ہے کیا!
خیر، جب معلوم ہوا تو عاشقی نبھانے میں جی جان سے جت گیا۔ جوئے شیر لانے کا تو اب رواج نہیں۔ ہوتا بھی تو یہ کام مزدوروں پہ زیادہ پھبتا ہے۔ جہاں تک آنکھ مٹکے اور چوما چاٹی وغیرہ جیسی نستعلیق روایات کا تعلق ہے تو اس میں کوئی کسر میں نے نہیں چھوڑی۔ آپ پریشان ہو رہے ہوں گے۔ استعارے سے ہٹ کر بات کروں تو مراد یہ ہے کہ نیند ٹوٹتے ہی محفل کھول لی جاتی تھی اور محفل ٹوٹتے ہی دوبارہ سو جاتا تھا۔ کیا گھر والے، کیا یار دوست۔ سبھی واقف تھے کہ راحیل ہوش میں ہو تو کمپیوٹر پر ہوتا ہے اور کمپیوٹر کے حواس بجا ہوں تو وہ محفل کے سر۔
محفل کی شانِ محبوبی کی تو پھر بات ہی کیا ہے!
اتنے احسان کہ گنواؤں تو گنوا نہ سکوں!
مجھے کسی آن لائن کمیونٹی سے گزشتہ گیارہ بارہ سالوں میں اتنا کچھ حاصل نہیں ہوا جتنا محفل سے کچھ ہی دنوں میں مل گیا۔ اثاثہ بن گئی محفل۔ اور اب بھی ہے۔ ہمیشہ رہے گی۔
پھر ایک گڑبڑ ہو گئی۔
مجھے پتا چلا کہ سرگوشیاں ہو رہی ہیں میرے بارے میں۔ میرے دین، مذہب، اخلاق، کردار، نفسیات سمیت کافی چیزیں زیرِ غور ہیں۔ پتا نہیں کون کر رہا تھا۔ آج تک نہیں پتا۔
کسی نے کھل کر کوئی بات نہیں کی۔ کی ہوتی تو شاید میں محفل نہ چھوڑتا۔ مزاج سے کسی کو مفر نہیں۔ ہر شخص اپنی افتادِ طبع کا کم یا زیادہ غلام ہوتا ہے۔ میں بھی ہوں۔ میرے مزاج کا ایک عجیب خاصہ رہا ہے۔ جو شے میری سمجھ میں نہ آئے مجھے اس سے نفرت ہو جاتی ہے۔ شدید نفرت۔
اس رویے نے کیا کیا گل نہیں کھلائے؟ مجھ سے میرا بہت کچھ چھین لیا۔ رشتے، محبتیں، عزت، دولت، سکون۔ شاید ہی میری زندگی کا کوئی پہلو ہو جسے اس عادت سے زک نہ پہنچی ہو۔ مگر پنجابی محاورے میں کہا جاتا ہے کہ عادت سر کے ساتھ جاتی ہے۔ سر ابھی سلامت ہے۔ عادت کیسے چھوٹے؟
آدھی عمر گزار کر، بڑے جوتے کھا کر، بڑے کشٹ اٹھا کر، بڑا رو رو کر میں نےصرف ایک ہستی کو مستثنیٰ کیا۔ آپ کا میرا رب۔ اس کی بات نہ بھی سمجھ میں آئے تو میں مان لیتا ہوں۔ سر جھکا دیتا ہوں۔ چپ سادھ لیتا ہوں۔ مگر اور کسی کو یہ اعزاز بخشا ہے نہ بخشنے کا ارادہ ہے۔
سو میں نے بڑی کوشش کی کہ معلوم ہو جائے کہ کون سرگوشیاں کر رہا ہے۔ میں سمجھ سکوں کہ معاملہ کیا ہے۔ کئی لوگ تھے۔ مگر میرے یار، میرے مخبر بھی اپنی اخلاقیات کے ایسے پابند تھے کہ انھوں نے کسی کا پول نہیں کھولا۔ صرف مجھے متنبہ کرنا ضروری سمجھا۔ میں ان کا شکرگزار ہوں۔ مگر اس چیز نے بدگمانی کو ہوا دی۔ میں نے محفل چھوڑ دی۔
میں اب بھی محفل پر جاتا ہوں۔ گھومتا پھرتا ہوں۔ مزے لیتا ہوں۔ پیارے لوگوں کی پیاری پیاری باتیں پڑھتا ہوں۔ اب احساس ہوا ہے کہ باغ میں گھومنے کے لیے مالی کی ملازمت کرنا کچھ ایسا ضروری بھی نہ تھا۔ سب کچھ تو ہے۔ پھول اب بھی ویسے ہی کھلے ہیں۔ بلبلیں اب بھی چہچہاتی ہیں۔ صبا کا گزر اب بھی ہوتا ہے۔ مگر
وہ سانپ رینگتے ہوئے چنبیلیوں کی اوٹ میں
مجھے نہ تب نظر آئے جب میں مالی تھا نہ اب دکھتے ہیں۔ ویسے بھی ان کی دشمنی مالیوں سے ہو تو ہو، مجھ جیسے ہوا خوروں نے ان کا کیا بگاڑا ہے؟
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ میں نے کسی سے جھگڑ کر محفل نہیں چھوڑی۔ مجھے کسی سے بھی خدانخواستہ کوئی گلہ شکوہ نہیں۔ جن سے تھوڑا بہت ہے ان کا پتا ہی نہیں کہ وہ ذات ہائے شریف ہیں کون۔ شکوہ تو نہ ہوا نہ پھر!
رات ویران ہے، بہت ویران
آسماں لاش ہے، جلی ہوئی لاش
جس کے سینے پہ چیونٹیوں کی طرح
ایک انبوہ ہے ستاروں کا
رزق چنتے ہیں اور کھاتے ہیں
خامشی سے گزرتے جاتے ہیں

ہائے یہ رات، ہائے ہائے یہ رات
کب بسر ہو گی؟ کیسے گزرے گی؟
کوئی دیکھے مری نظر سے اسے
کوئی چارہ مجھے بتائے مرا
کچھ علاج اس نظر کا؟ کوئی دوا؟
یا پھر آنکھیں ہی نوچ لے میری
ہے مسیحا کوئی؟ طبیب کوئی؟
کون میرے علاوہ دیکھے گا؟
جو مری آنکھ پر بھی ہے دشوار

غم کی عظمت کو کون پہچانے؟
چھوڑ کر زندگی کا کاروبار
کسے فرصت کہ آنکھ اٹھائے ذرا
شب کی ویرانیوں کا نوحہ لکھے؟
آسماں کا جنازہ پڑھ ڈالے؟
اور ستاروں کا راستہ روکے؟
کسے فرصت ہے مجھ سے بات کرے؟
میری آنکھوں میں جھانک کر دم بھر
مجھ سے پوچھے کہ میں نے کیا دیکھا؟

بھری دنیا میں کون دیدہ ور؟
کون رکھتا ہے میری جیسی نظر؟
کون پوچھے کہ میں نے کیا دیکھا؟
غم کی عظمت کو کون پہچانا؟
کسے فرصت کہ مجھ کو پہچانے؟

راحیلؔ فاروق

۲۶ اگست ۲۰۱۶ء
پچھلا مراسلہقدیم تر اشاعتیں ہوم