راحیل فاروق

اردو بلاگر
رات ویران ہے، بہت ویران
آسماں لاش ہے، جلی ہوئی لاش
جس کے سینے پہ چیونٹیوں کی طرح
ایک انبوہ ہے ستاروں کا
رزق چنتے ہیں اور کھاتے ہیں
خامشی سے گزرتے جاتے ہیں

ہائے یہ رات، ہائے ہائے یہ رات
کب بسر ہو گی؟ کیسے گزرے گی؟
کوئی دیکھے مری نظر سے اسے
کوئی چارہ مجھے بتائے مرا
کچھ علاج اس نظر کا؟ کوئی دوا؟
یا پھر آنکھیں ہی نوچ لے میری
ہے مسیحا کوئی؟ طبیب کوئی؟
کون میرے علاوہ دیکھے گا؟
جو مری آنکھ پر بھی ہے دشوار

غم کی عظمت کو کون پہچانے؟
چھوڑ کر زندگی کا کاروبار
کسے فرصت کہ آنکھ اٹھائے ذرا
شب کی ویرانیوں کا نوحہ لکھے؟
آسماں کا جنازہ پڑھ ڈالے؟
اور ستاروں کا راستہ روکے؟
کسے فرصت ہے مجھ سے بات کرے؟
میری آنکھوں میں جھانک کر دم بھر
مجھ سے پوچھے کہ میں نے کیا دیکھا؟

بھری دنیا میں کون دیدہ ور؟
کون رکھتا ہے میری جیسی نظر؟
کون پوچھے کہ میں نے کیا دیکھا؟
غم کی عظمت کو کون پہچانا؟
کسے فرصت کہ مجھ کو پہچانے؟

راحیلؔ فاروق

۲۶ اگست ۲۰۱۶ء
(اگست ۲۰۱۴ میں وطنِ عزیز کی سیاسی صورتِ حال کے تناظر میں لکھی گئی)

کون زنجیر توڑ سکتا ہے؟
کس میں ہمت ہے تم سے لڑنے کی؟
کس میں جرات ہے سر اٹھانے کی؟
کون باغی تمھاری ذات سے ہو؟
کس ستمگر کو جان پیاری نہیں؟
جان ہے تو جہان ہے پیارے
لوگ زندہ رہیں گے لالچ میں
کہ کسی روز وقت آئے گا
ایک لشکر مسرتوں کا لیے
اور تہِ تیغ کر کے رکھ دے گا
غم کی فوجوں کو، قہر کے دَل کو
اور یہ بے نشان قیدی بھی
اسی جھولے میں چھوٹ جائیں گے
سلسلے دکھ کے ٹوٹ جائیں گے
تم مگر فکر مت کرو جاناں
یہ تو لالچ ہے زندہ رہنے کا
خواب ہے مردہ ظرف لوگوں کا
وقت مظلوم کا نہیں ہوتا
تم پریشان مت ہو جانِ جاں
تم سے منہ کون موڑ سکتا ہے؟
کون زنجیر توڑ سکتا ہے؟

راحیلؔ فاروق

۲۵ اگست ۲۰۱۴
اے خوشا وہ لمحہ، عاشق کا قلم جب سر ہوا
بجھ گئی ہجراں کی آگ اور دل کا صحرا تر ہوا

کیا عجب بخشے ہی جائیں اس سعادت کے سبب
کافروں کا آج پھر چرچا سرِ منبر ہوا

میری حالت پر نظر مت نامہ بر! کر، یہ بتا
یار کا کیا حال میری داستاں سن کر ہوا

صورِ اسرافیل تو ایک استعارہ ہے فقط
آہ سے عورت کی ہو گا جب بپا محشر ہوا

مجھ سے بہتر کون جانے غم کی عظمت کو کہ میں
دل ہوا، دلبر ہوا، ناظر ہوا، منظر ہوا

خوش رہے، راحیلؔ، جو غم سے چھڑا دامن گئے
بھول جاؤ تم بھی ان کو، جو ہوا بہتر ہوا

راحیلؔ فاروق

۲۰ اگست، ۲۰۱۶
ہم نے دل کو لگا دیا تالا
اور سمندر میں پھینک دی چابی
عشق مشکل میں ہے، ضبط اس سے بڑی مشکل میں ہے
دل تمنا میں گیا پھر بھی تمنا دل میں ہے

کچھ نہ کچھ تاب و تواں باقی ابھی بسمل میں ہے
پوچھ لیجے، آخر ایسی بات کیا قاتل میں ہے؟

جس کے باعث حسن ہے بدنام ازل سے، غافلو!
وہ خرابی اصل میں عاشق کے آب و گل میں ہے

انتظارِ وصل میں ہے کیا مزا، مت پوچھیے
پوچھیے مت، کیا مزا اس سعیِ لاحاصل میں ہے

خود شناسی کے سفر میں کیا نہیں پائی مراد
یہ وہ منزل ہے کہ جس کی راہ بھی منزل میں ہے

نام ہی کا رہ گیا ہوں یوں بھی اب راحیلؔ میں
"ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے"

راحیلؔ فاروق

۹ اگست ۲۰۱۶ء
پچھلا مراسلہقدیم تر اشاعتیں ہوم