اختلاف زندگی کا حسن ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہمیشہ ننگا ہی رہنا چاہیے۔ ہم نے یہ سبق بھلے نو سو چوہے کھا کر سیکھا ہو مگر حاجیوں کی ایک بڑی تعداد کے منہ کو ابھی تک خون لگا ہوا ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے تو یہ گھنٹی باندھنی ضروری ہے کہ مضمون ہٰذا محض ازراہِ ترنم لکھا گیا ہے۔ اگر کسی کو تکلیف پہنچے تو اللہ جانتا ہے ہمیں خود بڑی تکلیف ہے۔ دہریوں اور مسلمانوں کی بحثوں میں ریلو کٹے کی طرح دونوں جانب سے شریک رہنے سے زیادہ بڑے اعزاز اور ذلت دونوں کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
نیکی کے کاموں سے ہمیں طبعاً مناسبت نہیں رہی۔ لہٰذا اگر کوئی ہمیں مسلمانوں کا نمائندہ خیال کرے تو یہ اس کی سادہ لوحی پر دلیل ہے۔ اسی طرح دہریوں کا طرفدار سمجھنے والا بھی سخت بےوقوف ہے کیونکہ ہم دہریے ہیں ہی نہیں۔ آفتاب آمد دلیلِ آفتاب۔ ہاں ہمدردی ہمیں دونوں گروہوں سے ہے۔ مسلمانوں سے اس لیے کہ ان پر غلطی سے زوال آ گیا ہے۔ اس بات میں شبہ ہے کہ غلطی مسلمانوں کی تھی یا زوال کی۔ دہریوں سے اس لیے پیار ہے کہ کلیسا آگے ہو نہ ہو، ایک آدھ قبلہ و کعبہ ضرور ہمہ وقت بیچاروں کے پیچھے ہوتا ہے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں۔
ایک کٹر مسلمان اور کٹر دہریے میں اس لحاظ سے غیرمعمولی اشتراکِ عمل پایا جاتا ہے کہ دونوں ہر وقت ہاتھ دھو کے اسلام کے پیچھے ہی پڑے رہتے ہیں۔ مسلمان بھائی کو سمجھانے کی کوشش کیجیے۔ وہ آپ کو حدیثیں سنائے گا۔ دہریے دوست کی منت کیجیے۔ وہ اور زیادہ حدیثیں سنائے گا۔ رفتہ رفتہ آپ کو اندازہ ہو گا کہ علومِ اسلامیہ میں جتنی وسعت کا دعویٰ کیا جائے کم ہے۔ اس سے شاید آپ کے ایمان میں اضافہ ہو۔ یا شاید آپ بھی دہریے ہو جائیں۔ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
حالانکہ ہر دو گروہ ایک دوسرے کو نہایت سچے دل سے پرلے درجے کا احمق اور گاؤدی جانتے ہیں لیکن باہر سے دیکھنے والوں کو نہ جانے کیوں ہمیشہ یہی گمان گزرتا ہے کہ خدا نے شاید انھیں فالتو عقل کی نعمت سے بھی سرفراز فرمایا ہے۔ ہم نے ہمیشہ دہریوں کی معروضات پر نہایت ہمدردی سے غور کیا ہے اور مسلمانوں کے ارشادات پر بھی کچھ کم دماغ سوزی نہیں کی۔ مگر نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس دردمندی کا نتیجہ ہماری توقعات کے بالکل برعکس نکلا ہے۔ یعنی اب دونوں گروہ متفقہ طور پر ہمیں احمق سمجھتے ہیں۔
ہم نے اس معاملے پر جس قدر غور کیا ہے اسی قدر دماغ کا دہی بنتا گیا ہے۔ یعنی ہم نے خود زندگی میں بہت بار سگریٹ الٹی طرف سے سلگا کر کش لگانے کی کوشش کی ہے اور اس قسم کے معاملات کو عین مقتضائے بشریت خیال کرتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص ہر بار یہی سعیِ نامشکور کرتا نظر آئے تو اسے سگریٹ نوش کی بجائے چرسی سمجھنا افضل ہے۔ مذہبی بحثوں میں دیے جانے والے اکثر دلائل کی نسبت ہم اس سے زیادہ کہنے سے معذور ہیں۔
تعجب ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں بہت سے ڈھلتی عمر کے مرد ڈاڑھی رکھ کر بھی لڑکیوں پر ٹھرک جھاڑنے سے باز نہیں آتے بالکل اسی طرح بظاہر دین کو دھتا بتا دینے کے باوجود بھی دہریوں کی نیت یا بدنیتی اسلام سے سیر نہیں ہوتی۔ دوسری جانب مومنین کا رویہ اس ضمن میں کچھ زیادہ ہی زنانہ سا دیکھنے میں آیا ہے۔ یعنی اکثر بحث میں کودتے بھی نہایت جوش و خروش سے ہیں اور غوطے کھا کر چیخیں بھی نہایت دردناک مارتے ہیں۔
مسلمانوں کا بس نہیں چلتا کہ کسی طرح خود کو طارق بن زیاد سے لے کر ابنِ سینا تک سب مشاہیرِ سلف کا بلاواسطہ خلف ثابت کر کے سلطانئِ پدر کے وارث قرار پا جائیں۔ ادھر دہریے ہیں کہ بعض اوقات اپنی حقیقی ولدیت پر بھی لیپا پوتی کی کوششوں میں مصروف دیکھے گئے ہیں۔ پھر دونوں ظالم اصرار بھی کرتے ہیں کہ تاریخ پڑھو۔حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح بھی عالی نسب وہی قرار پاتے ہیں جو تاریخ نہیں پڑھتے۔ اکو الف ترے درکار!
خوف ناک بات یہ ہے کہ وجودِ باری تعالیٰ کے محض عقلی اور نقلی ثبوت ہی رائج نہیں بلکہ دہریوں کو تجلیات کے براہِ راست مشاہدے کے لیے سوئے عدم روانہ کرنے کا چلن بھی عام ہے۔ ہماری سمجھ میں آج تک یہ نہیں آیا کہ اس طریقے میں کیا مصلحت کارفرما ہے۔ یعنی اگر یہ انتقام ہے تو کچھ ایسا ہے جیسے کوئی ٹھیکےدار مزدوروں کو دیکھتے ہی کام سمجھانے کی بجائے ہر بار زبردستی گھر چھوڑ آیا کرے!
عورت اور اس کے حقوق کے معاملے میں مومنین و ملحدین متفق ہیں کہ بہت ظلم ہو رہا ہے۔ اس امر میں البتہ حسبِ دستور شدید اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ اندھیر مچا کون کمبخت رہا ہے۔ ایمان والے دہریوں کو اس کا اصل ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور دہریے تو ویسے ہی مسلمانوں کو جنت تک کھدیڑنے کے شائق ہیں۔ مگر جہاں تک ہم نے دیکھا ہے یہ شاید واحد معاملہ ہے جس میں کسی کے الزامات میں بھی رتی بھر صداقت نظر نہیں آتی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے مشاہدے کے مطابق تو دونوں طرف صورتِ حال وہی ہے جس کا ذکر سوداؔ اپنے مشہورِ زمانہ قصیدہ تضحیکِ روزگار میں ایک مظلومِ زمانہ گھوڑے کی نسبت کر گئے ہیں:
گھوڑی کو دیکھ لے ہے تو پادے ہے بار بار
ہمارا خیال ہے کہ اس درجے کی شیفتگی ملاحظہ کر چکنے کے بعد کم از کم حقوقِ نسواں سے متعلق تمام بہتان تراشی کو محض برائے بیت یا زیادہ سے زیادہ برائے قصیدہ ہی سمجھنا چاہیے۔
کوئی دن ہو گا کہ ہارے ہوئے لوٹ آئیں گے ہم
تیری گلیوں سے گئے بھی تو کہاں جائیں گے ہم

آنسوؤں کا تو تکلف ہی کیا آنکھوں نے
خون کے گھونٹ سے کیا شوق نہ فرمائیں گے ہم

زندگی پہلے ہی جینے کی طرح کب جی ہے
اب ترے نام پہ مرنے کی سزا پائیں گے ہم

کب تک اے عہدِ کرم باندھنے والے کب تک
دل کو سمجھائیں گے بہلائیں گے پھسلائیں گے ہم

آہ سے عرشِ معلیٰ کو نہ لرزا دیں گے
تو سمجھتا ہے قیامت ہی فقط ڈھائیں گے ہم

لاکھ مرتد سہی بے دین نہیں ہیں واعظ
بت نئے ہیں تو خدا کیا نہ نیا لائیں گے ہم

جاودانی کا تصور میں بھی آیا نہ خیال
ہم سمجھتے تھے ترے عشق میں مر جائیں گے ہم

بس اب اے دل کہ قسم کھائی ہے اس ظالم نے
جو تڑپتا ہے اسے اور بھی تڑپائیں گے ہم

دور تجھ سے تو قضا بھی نہیں لے جائے گی
سر بھی آخر تری دیوار سے ٹکرائیں گے ہم

بھولتا ہی نہیں ہم کو وہ ستمگر راحیلؔ
خاک اسے یاد نہ کرنے کی قسم کھائیں گے ہم

راحیلؔ فاروق

۱۹ مارچ ۲۰۱۷ء
فن کی نوعیت اور عوام پر اس کے اثرات کی بحث گو معاشرے کے لیے نہایت سودمند ہے مگر فنکار عام طور پر اس سے تقریباً بےنیاز ہی رہتا ہے۔ البتہ ایک کانٹا اور ہے جو کبھی کبھی اس کے دل میں کھٹکتا ہے۔ میری مراد اس سوال سے ہے کہ تخلیقِ فن بذاتِ خود کیا شے ہے؟ اس کی نوعیت کیا ہے؟ کیفیت کیا ہے؟ کیا ہم اس تجربے کو کسی طور پر سمجھ سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو کیا ہم اسے دوسروں کو بھی سمجھا سکتے ہیں؟ یعنی جب ایک موسیقار ایک دھن ترتیب دے رہا ہوتا ہے یا ایک شاعر غزل کہہ رہا ہوتا ہے تو وہ عمل کیا ہے اور کیسا ہے جس کے نتیجے میں یہ تخلیقات وجود میں آتی ہیں؟
دراصل تخلیقِ فن کا عمل ایک ایسا وجدانی اور سیلانی قسم کا تجربہ ہے کہ گزر چکنے کے بعد اس کا تجزیہ تو ایک طرف، بازیافت بھی کماحقہٗ ممکن نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی نوعیت یا کیفیت کو سمجھنے کی کوششیں ہمارے ذہن میں ایک مبہم اور بعض اوقات غلط سا خاکہ تو قائم کر دیتی ہیں مگر اس تجربے کا جوہر ہاتھ نہیں آ پاتا۔ میرا خیال ہے کہ ہم روایتی طور پر اس مسئلے کو غلط زاویۂِ نگاہ سے دیکھتے آئے ہیں۔ شاید ہمیں تخلیقِ فن کو اس کے نتائج و عواقب سے ماورا ہو کر خود فنکار کے محسوسات کے آئینے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ممکن ہے عوام الناس کو وہ باتیں چونکا دیں جو میں کہنے جا رہا ہوں۔ مگر میرے مخاطب وہ نہیں ہیں۔ میرا خطاب دراصل فنکاروں سے ہے۔ یعنی ان لوگوں سے جو فنکارانہ تخلیق کے عمل سے گزر چکے ہیں یا گزرتے رہتے ہیں۔ باقی تمام لوگوں کے لیے یہ بحث فکر انگیز تو ہو سکتی ہے، معنیٰ خیز نہیں!
میرا تجربہ ہے کہ فنکار تخلیقِ فن سے قبل ایک عجیب قسم کے اضطراب سے گزرتا ہے جس میں بےانتہا کشش کا عنصر موجود ہوتا ہے۔ یعنی جب ایک شاعر غزل کہتا ہے تو اس سے کچھ پہلے اس کی طبیعت میں ایک بےچینی پیدا ہو جاتی ہے جو رفتہ رفتہ بڑھتی جاتی ہے۔ یہ کیفیت اپنے اندر اسی قسم کا اضطرار رکھتی ہے جس طرح کا ایک مرد اپنی محبوبہ کی یاد آنے پر محسوس کرتا ہے۔ یعنی ابھی وہ یاد پوری طرح ذہن کے آئینے پر منعکس بھی نہیں ہوتی کہ عاشق کا دل ڈوبنے لگتا ہے۔ اور بالآخر وہ جذبے کی شدت بڑھنے کے ساتھ عقلی سطح پر بھی باور کر لیتا ہے کہ اسے دراصل محبوبہ کی یاد ستا رہی ہے۔
بالکل اسی طرح کی کیفیت شعر کہنے سے قبل شاعر پر گزرتی ہے اور اس کے دل و دماغ میں ایک ہیجان برپا ہوتا ہے۔ وہ بھی اس ہیجان سے ایک وابستگی اور کشش محسوس کرتا ہے جو اسے بےبس کر ڈالتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ وقت آ جاتا ہے کہ یہ اضطراب اپنے عروج کو جا پہنچتا ہے اور شاعر کے پاس قلم اٹھا لینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ گویا عاشق اپنی محبوبہ کے پاس جا پہنچا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے تخلیق کے عمل کا باقاعدہ طور پر آغاز ہوتا ہے۔ میں جہاں تک سمجھا ہوں یہ شاعر کا فطرت کے ساتھ وصال ہے۔ جس طرح عاشق اور معشوق دنیا و مافیہا سے بےخبر ہو کر ایک دوسرے میں گم ہو جاتے ہیں بعینہٖ اسی طرح شاعر ایک گونہ فریفتگی اور بےخودی کے عالم میں شعر کہنے شروع کرتا ہے۔
جنسی عمل اپنے اندر جس قسم کی والہانہ ازخود رفتگی اور نشہ رکھتا ہے بالکل وہی تخلیقی عمل کے دوران فنکار میں بھی مشاہدہ کیے جا سکتے ہیں۔ پھر یہی نہیں، اس کی تکمیل کے بعد فنکار عاشق ہی کی طرح ایک ایسا خمار بھی محسوس کرتا ہے جس میں لطف اور تکان دونوں بدرجۂِ اتم موجود ہوتے ہیں۔ ایک سرور اسے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جس میں وہ پوری طرح یقین نہیں کر پاتا کہ وہ واقعی اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اسی طرح اس کے لیے فوری طور پر دوبارہ اس عمل کی جانب متوجہ ہونا بھی ممکن نہیں ہوتا۔
اگر کسی عاشق کو اس کی محبوبہ بلاتردد مل جائے اور اسے وصال کے لیے کوئی کشٹ نہ بھوگنے پڑیں تو وہ اس درجے کا لطف کبھی نہیں اٹھا سکتا جو صدہا مصائب اور رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد ملنے پر نصیب ہوتا ہے۔ شاعر کا معاملہ بھی یہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کی راہ ظالم سماج نہیں مارتا بلکہ قواعدِ فن اور عروضی پابندیاں اس کے پاؤں کی بیڑیاں بنتی ہیں۔ مگر جس قدر استقامت اور استقلال کے ساتھ وہ ان مزاحمتوں سے نمٹتا جاتا ہے اسی قدر اہتزاز تخلیق کے لمحوں میں اسے ارزانی ہوتا ہے۔
عملی نقطۂِ نگاہ سے دیکھا جائے تو شاید بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ عام آدمی کے مزاج میں فنکارانہ جوہر کا فقدان کم و بیش اسی قسم کے میکانکی طرزِ حیات کو جنم دیتا ہے جو ایک زاہدِ مرتاض کے ہاں تجرد کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ مگر فنکار اور عاشق کی زندگی ان مشینی رویوں کے برعکس ایک نامیاتی اور زندہ روش پر قائم رہتی ہے۔ یعنی ہر دو کے دل میں اکثر ایک تلاطم اور تموج ایسا برپا ہوتا رہتا ہے جو زندگی اور معاشرے کے جمود کا دشمن ہے۔
پھر یہ بھی طے ہے کہ جذبات کا مناسب نکاس انسان کی جسمانی سے لے کر روحانی صحت تک کا ضامن ہے۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ اظہارِ فن یا تخلیقِ فن کا سب سے بڑا وظیفہ ذاتی اور حیاتیاتی ہے۔ یعنی ہر بار سامنے نظر آتی ہوئی موت کا رخ موڑ کر فنکار کو ایک نئی زندگی بخشنا۔ دوسرے لفظوں میں، اگر تخلیقِ فن کے تمام راستے مسدود کر دیے جائیں تو یہ امر فنکار کے حق میں پیغامِ اجل کا حکم رکھتا ہے۔
گویا فنکار عاشق ہے اور فطرت معشوق۔ اور تخلیقِ فن عاشق و معشوق کے باہمی اختلاط کا عمل ہے۔ یہاں مجھے وہ پرانے لوگ یاد آ رہے ہیں جو یہ یقین رکھتے تھے کہ شاعروں کو شاعری کی دیوی الہام کے ذریعے سے تعلیم کرتی ہے۔ مجھے تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی بات میں بہرحال صداقت کا ایک بڑا عنصر موجود ہے۔ بلکہ ممکن ہے کہ وہ تخلیقی عمل کو کم و بیش اسی زاویے سے دیکھتے ہوں جس سے ہم آج اسے دیکھ رہے ہیں اور ان کی بات امتدادِ زمانہ کے سبب ہم تک پوری یا صحیح نہ پہنچ پائی ہو۔
غم سے نظریں چرائے پھرتا ہوں
خود کو سینے لگائے پھرتا ہوں

نہ کریدو کہ مختصر نہیں بات
داستانیں چھپائے پھرتا ہوں

کچھ تو منکر نکیر جانے بھی دیں
بوجھ آخر اٹھائے پھرتا ہوں

میں نے کب بندگی کا وعدہ کیا
میں مکرتا ہوں ہائے پھرتا ہوں

میں کہاں میں رہا ہوں اب لوگو
خود کو خود سا بنائے پھرتا ہوں

دل کہاں رہ گیا ہے سینے میں
آگ سی اک لگائے پھرتا ہوں

وہی نکلی ہے داستاں سب کی
میں جو اپنی بنائے پھرتا ہوں

بھولنے والے وہ نہیں راحیلؔ
انھیں عمداً بھلائے پھرتا ہوں

راحیلؔ فاروق

۱۳ مارچ ۲۰۱۷ء​
میں کہاں ہوں کوئی بتلاؤ مجھے
کھو گیا ہوں کوئی لے آؤ مجھے

کچھ بھی معلوم نہیں ہے کب سے
خبر اپنی کبھی دے جاؤ مجھے

میں بھی دیوانہ نہیں تھا آخر
کاش سمجھو تو نہ سمجھاؤ مجھے

مرحمت عشق ہوا ہجر ہوا
اب عطا صبر بھی فرماؤ مجھے

میں نہیں چشمِ سیہ ہے مخمور
ہوش ہے ہوش میں مت لاؤ مجھے

میں ہوں آئینہ تمھارے غم کا
دیکھنا دیکھ اگر پاؤ مجھے

عشق کچھ کھیل نہ نکلا راحیلؔ
پڑ گئے الٹے مرے داؤ مجھے

راحیلؔ فاروق

۱۳ مارچ ۲۰۱۷ء
بندہ بھی ہے خدا بھی ہے کوئی
مجھ میں میرے سوا بھی ہے کوئی

غیر سے آشنا بھی ہے کوئی
بےوفا! باوفا بھی ہے کوئی

سوچ سے ماورا بھی ہے کوئی
لادوا کی دوا بھی ہے کوئی

حسن کی انتہا ملے تو کہوں
عشق کی انتہا بھی ہے کوئی

حذر اے دل حذر گمانوں سے
آنے والا رہا بھی ہے کوئی

بےطلب کی جو بندگی کی ہے
خیر اس کی جزا بھی ہے کوئی

ہم نے کاغذ سفید رہنے دیا
عرض بےمدعا بھی ہے کوئی

آپ راحیلؔ صاحب آپ نہیں
آپ میں آپ کا بھی ہے کوئی

راحیلؔ فاروق

۴ مارچ ؁۲۰۱۷ء
انسان کی زندگی کا شاید ایک ہی محرک ہے۔ اپنی شناخت قائم کرنا۔ جو کلام کرتا ہے اس لیے کرتا ہے کہ پہچانا جائے۔ جو چپ رہتا ہے اس لیے رہتا ہے کہ بولنے والوں سے ممتاز رہے۔ جو عمارت اٹھاتا ہے اس لیے اٹھاتا ہے کہ یاد کیا جائے۔ جو گراتا ہے اس لیے گراتا ہے کہ اس کی فوقیت ثابت ہو جائے۔ جو کاروبار کرتا ہے اس لیے کرتا ہے کہ نمایاں ہو جائے۔ جو عشق کرتا ہے اس لیے کرتا ہے کہ اپنی ذات کی تکمیلِ اصلی میں اس سے مدد لے۔ اور تو اور صدیقِ اکبرؓ جیسا شخص بھی گھر کا تمام سامان اسی غرض سے پھونک ڈالنے پر آمادہ ہوتا ہے کہ حیاتِ ابدی میں سب سے سرفراز رہے!
اپنی ذات کے ادعا (assertion) کی یہ کاوشیں تب تک بےثمر ہیں جب تک خارج سے ان کا ردِ عمل پیدا نہ ہو۔ یعنی کرنے والے کو یہ نہ بتا دیا جائے کہ وہ کامیاب ہو گیا ہے۔ اپنی شناخت قائم ہونے کی اطلاع بدقسمتی سے انسان کو اپنے اندر سے نہیں مل سکتی۔ یہ خبر باہر والے ہی دیتے ہیں خواہ وہ اس جہان سے ہوں یا اس جہان سے۔ اور جب تک یہ خبر نہ ملے انسان اور اس کے کمالات اس مور اور اس کے ناچ کی طرح ہیں جو جنگل میں رقصاں ہو۔
فنکار اپنی شناخت قائم کرنے کے لیے عام لوگوں سے زیادہ لطیف ذرائع سے کام لیتا ہے اور زیادہ منفرد کارنامے سرانجام دینے پر قادر ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی توقعات بھی عوام الناس کی بہ نسبت بلند تر ہوتی ہیں۔ مگر یہ توقعات پوری کرنے کے لیے معاشرے نے ایک استثنائی مثال کے سوا کبھی توجہ دینی مناسب نہیں سمجھی۔ کبھی کوئی ایسا باقاعدہ نظام یا ادارہ تشکیل نہیں دیا گیا جس کی مدد سے فنکار کو یہ باور کروایا جا سکے کہ اس کی ایک جداگانہ شناخت ہے جس پر صرف اسی کا حق ہے۔
میرا ایمان ہے کہ اہلِ مشرق نے اور بالخصوص مللِ اسلامیہ نے دنیا کو بہت کچھ ایسا دیا ہے جس کی کماحقہ قدرشناسی کا وقت شاید ابھی نہیں آیا۔ انھی میں سے ایک مشاعرہ بھی ہے۔ یہ وہ استثنائی مثال ہے جس میں ہمارے معاشرے نے شاعروں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت اپنی مساعی دوسروں کے سامنے پیش کرنے اور داد و تحسین وصول کرنے کا موقع فراہم کیا۔ مصوری کی نمائشیں اس کو نہیں پہنچتیں کیونکہ ان میں لازمی تعریف ایک قدر کے طور پر موجود نہیں۔ موسیقی کی محافل سے اس کا مقابلہ نہیں کیونکہ ان میں بڑے اور چھوٹے فنکار ایک ہی مسند پر بیٹھ کر اظہارِ فن کا شرف نہیں پاتے۔ فنِ تعمیر اور مجسمہ سازی سے اس کا موازنہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کی نمائشیں اس درجے کے ارتقا کو شاید مستقبل میں بھی نہ پہنچ سکیں۔
میں مشاعرے کو ہمارے معاشرے کے ایک ادارے کی حیثیت دیتا ہوں۔ یہ ایک پورا نظام ہے، کوئی الل ٹپ اجتماع نہیں۔ اس کی اپنی اقدار ہیں جن سے انحراف کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ اپنا لائحۂِ عمل ہے جس سے وابستگی شرکا میں ایک طرح کے ثقافتی، معاشرتی، ملی اور نفسیاتی شعور کو بیدار کرتی ہے۔ اپنے مقاصد ہیں جنھیں یہ بہرصورت کچھ نہ کچھ پورا کرتا رہتا ہے۔ دنیا کے دوسرے خطوں میں فنکار کی قدرشناسی اور حوصلہ افزائی کا ایسا بہترین بندوبست نہ صرف یہ کہ کیا نہیں گیا بلکہ کیا جائے گا بھی تو اس پر ہمارے مشاعروں کی چھاپ یقیناً نظر آئے گی۔ اس کی وجہ بہت صاف ہے۔ مشاعروں نے ہمارے فنکار کی شناخت قائم کرنے اور اس کی تسکین و تالیفِ قلب میں جو کردار ادا کیا ہے وہ اتنا بھرپور ہے کہ اس سے بڑھ کر کیا معاشرتی کیا انفرادی کسی بھی سطح پر ممکن نہیں۔ یعنی شاعر کی تحسین اکثر اتنی زیادہ کی گئی ہے کہ اس کا حق نہیں تھا۔ اس سے زیادہ کوئی اور نظام کرے گا تو کیا کرے گا؟
لوگ شکوہ کرتے ہیں کہ مشاعروں اور محافلِ شعر خوانی میں کی جانے والی تعریف و توصیف سطحی اور منافقانہ ہوتی ہے۔ یہ بات درست ہے۔ مگر میں اسے اپنے سماج کی خوبی خیال کرتا ہوں کہ اس نے فنکار کی حوصلہ افزائی کے لیے ہر صورت میں کچھ نہ کچھ داد کو لازم کردیا ہے۔ داد ہمارے مشاعروں میں ایک قدر کی حیثیت رکھتی ہے اور جو لوگ اس سے احتراز کرتے ہیں ان پر آنکھیں اٹھتی ہیں۔ وہ مشاعرے کے ماحول سے ہم آہنگ معلوم نہیں ہوتے اور شاید خود بھی اپنے آپ کو کسی قدر اجنبی محسوس کرتے ہوں۔ اس اصول سے استثنا صرف بزرگ اور استاد شعرا کو حاصل ہے جن کی خاموشی پر لوگوں کے دل دھڑکتے ہیں اور سر کی معمولی سی جنبش پر پہلو سے نکل جاتے ہیں۔ کہنہ مشق فنکاروں کی بھی اس سے اچھی قدر کیا ہو سکتی ہے؟
پھر لوگ کہتے ہیں کہ اچھے اور برے شاعر میں داد کی بنیاد پر امتیاز کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ میں بھی اسے اس نظام کی خامی خیال کرتا ہوں۔ اقبالؒ نے کہا تھا کہ اردو شاعری کو مشاعروں نے برباد کر دیا گو زبان کو فائدہ پہنچایا۔ اچھے اور برے شعرا کی تقریباً ایک ہی طرح سے ستائش کی وجہ دو باتوں میں تلاش کی جا سکتی ہے۔ ایک تو عوام کی ادبی معیارات سے جہالت اور دوسرا مشاعرے کا نظام اخلاق۔ مشاعرے میں چونکہ عوام کی شمولیت ناگزیر ہوتی ہے اور ان کا ذوق پست ہوتا ہے اس لیے شعرا کی درست قدرفہمی کی امید ان سے نہیں کی جا سکتی۔ البتہ خود عوام کو اور معاشرے کو ضرور اس صورت میں فائدہ پہنچ جاتا ہے کہ وہ مشاعرے سے زبان کے خوب صورت، رنگین اور احساس سے بھرپور استعمال کے نئے نئے رنگ سیکھتے ہیں۔ اس لیے شعرا پر یہ لازم ہے کہ وہ کم از کم زبان کے معاملے میں ضرور احتیاط سے کام لیں۔ معاشرے اور مشاعرے دونوں نے انھیں حرف و صوت کے امین کی گدی دے رکھی ہے جس کا پاس ان پر فرض ہے۔ جہاں تک نظامِ اخلاق کے اثر کا تعلق ہے تو اس پر ہم بات کر چکے ہیں۔ مشاعرے میں کوئی شاعر داد لیے بغیر اٹھ جائے تو وہ شرمندہ ہو یا نہ ہو، شرکائے مشاعرہ کا دل ضرور برا ہو جاتا ہے۔ اسی اخلاقی قدر کا پاس بعض اوقات اس انتہا پر جا کر کیا جاتا ہے کہ اچھے اور برے شاعر کا فرق اٹھ جاتا ہے۔
مشاعرے کی دیگر اقدار اور روایات کا ذکر شاید کچھ ایسا ضروری نہیں۔ مگر اتنا کہنا لازم ہے کہ جس طرح شاعری میں اصناف کی اپنی شرائط طے کر لی جاتی ہیں اسی محبت اور لطافت کے ساتھ ہمارے مشاعرے بھی شمعِ محفل سے لے کر پاسِ مراتب تک کچھ معیارات کی پاسداری کرتے چلے آئے ہیں۔ ان معیارات میں کچھ نہ کچھ تبدیلی وقت کا اقتضا ہے مگر اچھی بات ہو گی کہ اس تبدیلی کا رخ مثبت ہی رہے۔ ہمیں چاہیے کہ مشاعروں کی خامیوں کو دور کرنے کی اپنی سی کوشش ضرور کریں مگر انھیں تنقیدی مجالس کا بدل ہرگز نہ سمجھیں۔ نیز اپنے معاشرے کی اس فن پروری پر نازاں ہوں نہ کہ شرمندہ!
میں دیوانہ ہوں دیوانے کا کیا ہے
زمانہ خود تماشا بن گیا ہے

ہم اپنی داستاں خود کیوں سنائیں
جو ظالم پوچھتا ہے جانتا ہے

دھوئیں کی گود میں بیٹھا زمانہ
گل و بلبل پہ فقرے کس رہا ہے

ہمارا نام ان کے نام کے ساتھ
کسی بدخط نے عمداً لکھ دیا ہے

حقیقت سے جو منہ پھیرے سو کافر
حرم ہے دیر ہے بت ہیں خدا ہے

ترا غصہ تو پھر غصہ ہے ظالم
مگر یہ صبر بھی صبر آزما ہے

ہر اک سے حال مت دریافت کیجے
اسی سے پوچھیے جس کو پتا ہے

خدا کے ذکر میں تسکین ہو گی
بتوں کی بات کا اپنا مزا ہے

حسد ہے منعموں کو منعموں سے
فقیروں کو فقیروں کی دعا ہے

اسی دکھ میں مرا جاتا ہے راحیلؔ
کوئی سمجھے کہ دکھ کس بات کا ہے

راحیلؔ فاروق

۲۸ فروری ؁۲۰۱۷ء​
ایک شخص نے مشہور عرب شاعر متنبی سے کہا:
"میں نے دور سے آپ کو دیکھ کر عورت سمجھا۔"
متنبی نے کہا:
"میں نے جب دور سے دیکھا تو آپ کو مرد سمجھا تھا۔"
---
دلی میں نیا کوتوال وارد ہوا۔ غالبؔ سے ملاقات ہوئی تو اس نے ازراہِ تفنن کہا، "مرزا! دلی میں گدھے بہت ہیں۔"
مرزا صاحب نے فرمایا:
"نہیں، بھائی۔ کبھی کبھی باہر سے آ جاتے ہیں۔"
---
کوئی صاحب داغؔ دہلوی سے ملنے آئے اور ملے بغیر لوٹ گئے۔ داغؔ نے شاگرد کو دوڑایا۔ دوبارہ آئے تو جانے کی وجہ پوچھی۔ انھوں نے کہا، "آپ نماز پڑھ رہے تھے۔"
داغؔ نے کہا:
"حضرت، نماز پڑھ رہا تھا۔ لاحول تو نہیں پڑھ رہا تھا جو آپ نکل بھاگے۔"
---
مشہور امریکی لغت نگار نوح ویبسٹر اپنی ملازمہ کے ساتھ خوش وقتی میں محو تھے کہ ان کی بیگم اندر داخل ہو کر چلائیں، "حیران ہوں میں!"
لغت نگار نے تصحیح کی:
"نہیں، میری جان۔ حیران تو میں ہوں۔ تم پریشان ہو!"
دے تلے آسمان نے مارا
مجھ کو میری اُٹھان نے مارا

دل کی دنیا کو یاد لُوٹ گئی
یہ جہان اس جہان نے مارا

تیغِ بُرّاں ہے حلق میں گویا
مجھے میری زَبان نے مارا

آگ کا کاروبار خوب نہ تھا
خود کو شعلہ بیان نے مارا

دل میں ارمان بستے تھے کیا کیا
خلق کو حکمران نے مارا

عنفوانِ شباب اور وہ گلی
اس زمان و مکان نے مارا

حسن راحیلؔ کو پچھاڑ گیا
زور کتنا جوان نے مارا

راحیلؔ فاروق

۲۴ فروری ؁۲۰۱۷ء
زندگی کیا ہے؟ تماشا ہے تفنن ہی تو ہے
میری اوقات ہے کیا اور ہے کیا تیری بساط
مجھے اس بات کا دکھ ہے تجھے اس بات کا دکھ
کس قدر مضحکہ انگیز ہیں اس کھیل میں ہم
ہے مجھے خون کے رشتوں کے بدل جانے کا غم
نفرت اس رنگ سے لگتا ہے تجھے بھی ہے بہت
بھوک جو تجھ کو رلاتی ہے مجھے بھی ہے بہت
سالِ نو سے بھی تھی دونوں کو تمنائے نشاط
یہی امید کہ بھر پائے گا پیٹ اب کے برس
پر اب امید کی بلبل بھی نوا سنج نہیں
پھر ہمی دونوں پہ موقوف بھی یہ رنج نہیں
بین کرتے ہوئے روتے ہوئے لمحات کا دکھ
سب کو ہے ہر کہ و مہ ہر کس و ناکس کو ہے
گندے نالوں میں پڑے رینگنے والے کیڑے
عمر بھر گندگئِ زیست میں سڑنے والے
ان سے آغاز کر اور اہلِ دَوَل تک گن جا
جن کی حشمت پہ تجھے اور مجھے رشک آتا ہے
آسمانوں کو زقندوں میں جکڑنے والے
جن کے پیروں تلے اِفلاس کچل جاتا ہے
جن کی جھولی میں مقدر کا دیا ہُن ہی تو ہے
کوئی بھی خوش نہیں کم بخت کوئی بھی تو نہیں
پاس سے دیکھ ذرا خیر سے ہر آنکھ ہے نم
ہے فضا دہر کی وہ رشکِ جہنم کہ یہاں
عیش جُرّے کو میسر ہے نہ کرگس کو ہے
زندگی تلخ ہے اے دوست! نہایت ہی تلخ
ہم جواں سال ہیں آ ہم اسے آسان کریں
جو ترے ذہن میں ترکیب ہے کیا اچھی ہے
خود پہ احسان کریں لوگوں پہ احسان کریں
چل مرے دوست میں تیار ہوں بسم اللہ کر
بلکہ تیار تو سب لوگ ہیں ڈر جاتے ہیں بس
آ مری جان بہت دیر ہوئی پڑھ کلمہ
ہے جہاں سوختنی آگ لگا دے اس کو
جو بھی رنجش ہے دھماکے سے اڑا دے اس کو

راحیلؔ فاروق

۲۴ فروری ۲۰۱۷ء​