حساب - ایک ذو قافیتین ربعی قطعہ - اردو نگار - راحیلؔ فاروق

روزِ محشر خراب مت کیجو
اور مجھ کو عذاب مت دیجو

تیرے بندوں نے گن لیا سب کچھ
تو، الٰہی! حساب مت لیجو

راحیلؔ فاروق

عروض میں انیس بحروں کو اصل الاصول کی حیثیت حاصل ہے۔ گو کہ کچھ عروضیوں نے ان کے سوا بھی بحریں متعارف کروانے کی کوشش کی ہے مگر وہ بار نہ پا سکیں۔ اس کی وجہ غالباً یہ رہی ہے کہ ان انیس بحور پر زحافات کے عمل سے تقریباً کسی بھی وزن کا استخراج ممکن ہے لہٰذا نئی بحور کی ضرورت کالعدم ہو جاتی ہے۔
ان بحور میں سے پندرہ خلیل بن احمد عروضی کے ذہنِ رسا کا نتیجہ ہیں جبکہ چار کا سہرا مختلف عجمی علما کے سر ہے۔ فارسی میں انھیں بحورِ نوزدگانہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور انھیں مستحضر کروانے کے لیے کسی شخص نے ایک قطعہ کہہ رکھا ہے جو مولوی عبدالحق صاحب نے قواعدِ اردو میں نقل کیا ہے۔ عروض کی کسی اردو کتاب میں یہ قطعہ میری نظر سے نہیں گزرا۔ بعض فارسی ویب گاہوں پر دیکھنے میں آیا ہے مگر انٹرنیٹ کی اردو گو دنیا غالباً ہنوز اس سے لاعلم ہے۔
قطعہ گو کہ اصلاً فارسی ہے مگر اردو فہموں کے لیے کچھ ایسا دشوار نہیں۔ کل دو یا تین فارسی الفاظ استعمال ہوئے ہیں جن کا مفہوم اہلِ اردو جانتے ہیں۔ لہٰذا میں نے چاہا کہ دلچسپی رکھنے والے احباب کے استفادے کے لیے اسے یہاں پیش کیا جائے۔
ملاحظہ کیجیے:

رَجَز، خَفِیف و رَمَل، مُنسَرِح دگر مُجتَث
بَسیط و وَافِر و کامِل، ہَزَج، طَوِیل و مَدِید
مُشاکِل و مُتَقَارِب، سَرِیع و مُقتَضَب است
مُضارِع و مُتَدَارِک، قَرِیب و نیز جَدِید

کچھ اور سخن کر کہ غزل سلکِ گہر ہے! - اردو نگار - راحیل فاروق

(محمد احمدؔ بھائی کے بلاگ کے لیے لکھا گیا مضمون)

عالمی ادب کے تناظر میں دیکھا جائے تو غزل یوں معلوم ہوتی ہے جیسے جل پریوں کے جمگھٹ میں کوئی آسمانی پری سطحِ آب پر اتر آئی ہو۔ اجنبی اجنبی، وحشی وحشی، تنہا تنہا۔ جس کے حسنِ سوگوار پر لوگ ریجھ بھی جائیں اور سٹپٹا بھی جائیں۔ دیوانوں کو اس کا جمالِ بے ہمتا وجد میں لے آتا ہے اور فرزانوں کو اس کی ہئیتِ منفردہ فتنے میں ڈال دیتی ہے۔ کوئی سر دھنتا ہے اور کوئی پیٹتا ہے۔ سب سچے ہیں۔
غزل وہ بے نظیر صنفِ شاعری ہے جسے نظم کہنا ممکن نہیں۔ دنیا بھر کی اصنافِ شعر نظم ہی کی مختلف صورتیں ہیں جن میں کوئی خیال آہنگ اور قافیے کے التزام کے ساتھ اجمال یا تفصیل کے ساتھ باندھا جاتا ہے۔ رباعی اور قصیدے سے لے کر سانیٹ اور ہائیکو تک سب کی سب اصنافِ سخن اسی بحرِ جمالیات کی جل پریاں ہیں۔ مگر غزل چیزے دگر ہے۔ یہ جمالیات سے نکلی نہیں بلکہ الہام کی طرح اس پر نازل ہوئی ہے۔ اس سمندر کے رنگین چھینٹے اس کے دامنِ بیضا پر پڑتے تو ہیں مگر عرش کی پہنائیوں سے اس کا رشتہ منقطع نہیں کر سکتے۔ ممکن ہے کہ مجرد فلسفیانہ اور مذہبی خیالات کے اظہار کی غیر معمولی قوت اس میں اسی باعث پائی جاتی ہو۔
ارفع حقائق کو سادہ لفظوں میں بیان کرنے کی کوششیں یا مبالغے پر منتج ہوتی ہیں یا مغالطے پر۔ مگر کیا کیجیے کہ مناسبِ حال پیرایۂِ اظہار اور زیادہ بڑا امتحان ہے۔ ہر دو انتہاؤں سے بچتے ہوئے ہم زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ شاعری کی حدود کے اندر رہتے ہوئے غزل درحقیقت نظم کی نقیض ہے۔ یعنی نہ صرف یہ کہ نظم میں اور اس میں کوئی قدرِ مشترک نہیں بلکہ یہ دونوں ایسے معنوی بعد پر واقع ہوئی ہیں جس کی مثال ادبیات میں شاذ ہے۔ نظم کثرت کے اندر وحدت ہے اور غزل وحدت کے اندر کثرت!
غزل کی تقویم کچھ ایسی ہے کہ ہئیتی اعتبار سے تو وہ ایک وحدت ہوتی ہے مگر معنوی اعتبار سے نظموں کے ایک گلدستے کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا غزل کا ہر شعر ایک جداگانہ نظم ہے اور ایک نظم فی الاصل غزل کے ایک طویل شعر سے زیادہ کچھ نہیں۔ اقبالؔ علیہ الرحمۃ کی شہرۂِ آفاق نظم "شکوہ" اٹھائیے اور غالبؔ کے اس شعر کے سامنے رکھیے۔ بات کچھ کچھ سمجھ میں آنے لگے گی۔
ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند
گستاخئِ فرشتہ ہماری جناب میں!
مگر اس سیدھی سادی سی حقیقت کی الٹی سیدھی تفہیمات نے بڑے بڑوں کی چیں بلوائی ہے اور اب بھی کئی ہیں کہ اس نیرنگی پر اعتراض کرتے ہیں اور اسے روحِ شاعری کے شایان نہیں سمجھتے۔
مگر ہم جس طرح اور جس قدر غزل کو سمجھتے ہیں اس لحاظ سے بہت رعایت بھی کریں تو یہی کہہ سکتے ہیں کہ بدقسمت ہے وہ شخص جو غزل کا ذوق نہیں رکھتا اور نامکمل ہے وہ ادب جس میں اس صنف نے بار نہیں پایا۔ ایجاز اور شوخی سے لے کر تہہ داری اور آفاقیت تک الوانِ ادب میں کیا ہے جس کی تجسیم غزل میں نہیں؟ ہمیں پوری ایمان داری کے ساتھ نظریۂِ ادب، تنقید، جمالیات اور لسانیات وغیرہ کی دریافت کردہ کوئی وقیع قدر ایسی نظر نہیں آتی جس کی کامل ترجمانی غزل میں نہ ہو چکی ہو۔ بلکہ ہم تو یہاں تک کہنے کو تیار ہیں کہ ایسے سب اصولوں کی بیک وقت متحمل بھی صرف اور صرف غزل ہی ہو سکتی ہے۔ کسی اور صنفِ ادب کی یہ تاب نہیں کہ وہ مثلاً ایجاز اور اطناب کے جلوے ایک ہی شہ پارے میں یکجا کر سکے۔
غزل کی یہ تکثیریت بجائے خود بڑی معنیٰ خیز اور عالم فریب ہے۔ یعنی شاعر ایک شعر میں وصال کی امید پر رقص کرتا ہے تو دوسرے شعر میں ہجر کی یاس اسے مفلوج کر ڈالتی ہے۔ نا آشنایانِ راز یہیں سے دھوکا کھاتے ہیں اور اسے غیر فطری یا وحشیانہ خیال کرتے ہیں۔ محرمِ درونِ خانہ کے نزدیک یہی سیمابی نہ صرف غزل بلکہ خود اس کارخانۂِ فطرت کا بھی جوہر ہے جس کی ترجمانی غزل کرتی ہے۔ ایک بالغ نظر اور باشعور شخص، خواہ وہ کسی مکتبِ فکر سے تعلق رکھتا ہو، گواہی دے گا کہ انسان کے افکار اور وجود ایک شرارِ جستہ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتے۔ ادھر ایک خیال آتا ہے اور ادھر اس کے دامن سے ایک اور ٹپک پڑتا ہے اور ذہنِ انسانی کو کشاں کشاں کسی اور سمت لیے جاتا ہے۔ وہاں پہنچتا نہیں کہ راہ کی بوقلمونیاں ایک نئی منزل کا اشارہ دے دیتی ہیں۔ ادھر کو چلتا ہے تو ناگہاں کوئی اور خیال وارد ہو کر راہ مارتا ہے۔ اس مظہر کو ماہرینِ نفسیات شعور کی رو (stream of consciousness) سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ ایک قدرتی اور فطرتی بہاؤ ہے جس میں رکاوٹ جنون کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ جنون خیالات کے ایک نکتے پر منجمد یا مرتکز ہو جانے کے سوا کچھ اور نہیں!
حیرت ہے کہ مغربی اکابرینِ ادب کو شعور کی رو سے ادب میں استفادے کا خیال بیسویں صدی میں جا کر آیا اور یہ استفادہ کیا بھی گیا تو ایسا بھونڈا کہ بجائے خود دیوانے کی بڑ معلوم ہوتا ہے۔ متغزلین کو دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ عرصۂِ دراز سے اس راہ کے شہسوار ہیں۔ اور شہسوار بھی ایسے کہ جن کی اڑائی ہوئی گرد بھی شعور کی رو کے تحت لکھنے والے مصنفین کے لیے سرمۂِ مفتِ نظر کی حیثیت رکھتی ہے۔ غزل کے مطلع سے لے کر مقطع تک احساسات اور افکار کا ایک دریا ہے جو بہتا چلا جاتا ہے اور میدانِ ہستی کے ذرے ذرے کو ساتھ بہائے لیے جاتا ہے۔ کیا ہے جو اس کی دست برد میں نہیں؟
بعض کا خیال ہے کہ غزل گو کو قافیے اور ردیف کی قید کہیں کی اینٹ، کہیں کا روڑا اٹھا کر بھان متی کا کنبہ جوڑنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ نہیں۔ یہ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ ایک اوسط درجے کے شخص کے لیے نظم لکھنا درحقیقت غزل لکھنے سے زیادہ آسان ہے۔ اس کی صاف صاف وجہ یہ ہے کہ ایک خیال کا کسی مناسبِ حال ہئیت میں موزوں تفصیل کے ساتھ اظہار کرنا کسی غیر معمولی لیاقت کا تقاضا نہیں کرتا مگر آٹھ دس اشعار میں آٹھ دس خیالات کو کمالِ ایجاز و بلاغت کے ساتھ بیان کرنا پتا پانی کر دیتا ہے۔
اس سے مترشح ہوتا ہے کہ غزل کا حقیقی شاعر تخلیقی اور فکری وفور کے اعتبار سے باقی شعرا پر ایک غیرمعمولی فوقیت رکھتا ہے۔ وہ خیالات، احساسات اور اسالیب کی ایسی فراوانی سے بہرہ ور ہوتا ہے جو اظہارِ فن کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو گویا ایک نئے موقع کے طور پر دیکھتی ہے۔ جہاں زمینِ غزل نے کوئی ایسی کروٹ لی کہ جس پر بحر، قافیے یا ردیف کی غرابت کے باعث مرگِ فن کا شبہ ہو، وہیں ایک طرفہ خیال اور ایک نادر احساس جو نہاں خانۂِ دل میں گویا ازل سے اسی انتظار میں بیٹھا تھا، نکل کر مسکرانے لگا۔ متغزلین کے دیوان اٹھا کر دیکھیے۔ آپ کو اندازہ ہو گا کہ فکر اور احساس کا تنوع کیا شے ہے۔ بالفاظِ دیگر، انسان کیا شے ہے اور کائنات کیا شے ہے۔ یہ بصیرت آپ کو نظم نہیں دے سکتی!
محشر کی اس گھڑی میں ہمارا کوئی تو ہو
اے رات، اے فراق، خدارا! کوئی تو ہو

یہ بددعا نہیں مگر اس دل کا ہم نوا
کوئی تو ہو نصیب کا مارا، کوئی تو ہو!

تنکا ہے آشیانے کی کیا خوب یادگار
اچھا ہے، ڈوبتے کو سہارا کوئی تو ہو

سرکار، ہاتھ پاؤں تو سب دے گئے جواب
اس نامراد دل کا بھی چارا کوئی تو ہو

کیا ہجر کیا وصال، وہی عاشقوں کا حال
آخر قرار میں بھی بچارا کوئی تو ہو

راحیلؔ غم کے بعد خوشی بھی ملے مگر
اس بحرِ بے کراں کا کنارا کوئی تو ہو

راحیلؔ فاروق

۳۰ دسمبر، ؁۲۰۱۶ء
مرنا تو کسی کو بھی گوارا نہیں ہوتا
کمبخت محبت میں مگر کیا نہیں ہوتا

محسوس تو ہوتا ہے، ہویدا نہیں ہوتا
اک حشر ہے سینے میں کہ برپا نہیں ہوتا

کب سامنے آنکھوں کے مسیحا نہیں ہوتا
گویا نہیں ہوتا تو مداوا نہیں ہوتا

آئینے کی صورت کا بھروسا نہیں ہوتا
تجھ سا کوئی ہوتا ہے وہ مجھ سا نہیں ہوتا

ہم تیرے سہی، وقت کسی کا نہیں ہوتا
کس بھول میں ہے تو کہ ہمارا نہیں ہوتا

اس حال کو پہنچائے ہوئے آپ کے ہیں ہم
پہچان ہی لیں آپ سے اتنا نہیں ہوتا

مردے بھی تو آخر کبھی جی اٹھتے ہیں لیکن
بیمار ترا وہ ہے کہ اچھا نہیں ہوتا

دانستہ محبت میں کسی کی ہو گرفتار
اتنا بھی کوئی عقل کا اندھا نہیں ہوتا

شاید ترے جوہر نہ کھلیں عشق میں راحیلؔ
افسوس، یہاں ایسے کو تیسا نہیں ہوتا

راحیلؔ فاروق

۲۵ دسمبر ؁۲۰۱۶ء
نوآموز شعرا کی رہنمائی کے لیے اردو کے استاد شاعر نواب مرزا خان داغؔ دہلوی کا ایک نادر و نایاب قطعہ جس میں فنِ شعر پر مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ ملاحظہ کیجیے:

اپنے شاگردوں کی مجھ کو ہے ہدایت منظور
کہ سمجھ لیں وہ تہِ دل سے بجا و بے جا

چست بندش ہو، نہ ہو سست، یہی خوبی ہے
وہ فصاحت سے گرا شعر میں جو حرف دَبا

عربی، فارسی الفاظ جو اردو میں کہیں
حرفِ علت کا برا ان میں ہے گِرنا، دَبنا

الفِ وصل اگر آئے تو کچھ عیب نہیں
پھر بھی الفاظ میں اردو کے یہ گِرنا ہے رَوا

جس میں گنجلک نہ ہو تھوڑی بھی، صراحت ہے وہی
وہ کنایہ ہے جو تصریح سے بھی ہو اولیٰ

ہے یہ تعقید بری بھی مگر اچھی ہے کہیں
ہو جو بندِش میں مناسب تو نہیں عیب ذرا

شعر میں حشو و زواید بھی برے ہوتے ہیں
ایسی بھرتی کو سمجھتے نہیں شاعر اچھا

جو کسی شعر میں ایطائے جلی آتی ہے
وہ بڑا عیب ہے، کہتے ہیں اسے بے معنیٰ

استعارہ جو مزے کا ہو، مزے کی تشبیہ
اس میں اِک لطف ہے، اس کہنے کا کیا ہی کہنا

اِصطلاح اچھی، مثال اچھی، ہو بندش اچھی
روزمرہ بھی بہت صاف، فصاحت سے بھرا

ہے اضافت بھی ضروری مگر ایسی تو نہ ہو
ایک مصرع میں جو ہو چار جگہ سے بھی سوا

عطف کا بھی ہے یہی حال، یہی صورت ہے
وہ بھی آئے متواتر تو نہایت ہے برا

لف و نشر آئے مُرتّب تو بہت اچھا ہے
اور ہو غیر مُرتّب تو نہیں ہے بے جا

شعر میں آئے جو اِبہام کسی موقع پر
کیفیت اس میں ہے، وہ بھی ہے نہایت اچھا

جو نہ مرغوبِ طبیعت ہو بری ہے وہ ردِیف
شعر بے لطف اگر قافیہ ہو بے ڈھنگا

ایک مصرع میں ہو تم، دوسرے مِصرعے میں ہو تو
یہ شتر گربہ ہے، میں نے بھی اسے ترک کِیا

چند بحریں متعارِف ہیں فقط اردو میں
فارسی میں، عربی میں ہیں مگر اور سوا

پند نامہ جو کہا داغؔ نے، بیکار نہیں
کام کا قطعہ ہے، یہ وقت پہ کام آئے گا

داغؔ دہلوی

انسان کا تناسبِ اعضا - اردو نگار - راحیل فاروق

صاحبو، قرآنِ حکیم میں ہمارا آپ کا رب فرماتا ہے:
لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ 
بے شک ہم نے انسان کو بہترین صورت (ساخت یا قاعدے) پر پیدا کیا۔
(سورۃ التین - آیت ۴)
آج کچھ چشم کشا اور بصیرت افروز حقائق ہماری نظر سے گزرے تو بے اختیار یہ آیت یاد آ گئی۔ معلوم ہوا کہ حضرتِ انسان نے یہ جو دھرتی کی کوکھ میں اترنے سے لے کر ستاروں پر کمند ڈالنے تک کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس کا بہت زیادہ تعلق اس کے جسمانی تناسب سے بھی ہے۔ علما متفق ہیں کہ اعضا کے ایک غیرمعمولی توازن و توافق نے آدمی کو بہت کچھ ایسا کرنے کے قابل بنا دیا ہے جو دیگر حیوانات سے یکسر بعید ہے۔
اس تناسب کی مثالیں تو بہت سی ہوں گی اور بہت سے زاویہ ہائے نگاہ سے ہوں گی۔ مگر ہم بالفعل ان چیدہ چیدہ باتوں کا ذکر کرنے جا رہے ہیں جنھوں نے آج ہمیں ورطۂِ حیرت میں ڈالا ہے۔ یاد رہے کہ ان میں سے اکثر پیمائشیں غالباً ایک عام صحت مند انسان کے لیے ہیں۔ ہم خدا جانے صحت مند ہیں یا نہیں مگر ہمارا جسم ان پیمانوں پر صد فی صد پورا اترتا ہے۔ ملاحظہ ہوں:

  1. یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ آپ کے دونوں بازوؤں کا پھیلاؤ آپ کے قد کے برابر ہوتا ہے۔ مگر یہ بات شاید آپ کو معلوم نہ ہو کہ آپ کے سر کی لمبائی (سر کی چوٹی سے گردن تک) آپ کے پاؤں کی لمبائی یا کمر کی چوڑائی کے برابر ہوتی ہے۔
  2. آپ کی کلائی (ہاتھ کے اختتام سے) آپ کی کہنی تک کا اندرونی فاصلہ آپ کے پاؤں کی لمبائی کے بالکل برابر ہوتا ہے۔
  3. آپ کی کمر کی لمبائی بیٹھنے کی جگہ سے لے کر سر کی چوٹی تک آپ کے پاؤں کی لمبائی سے عین تین گنا ہوتی ہے۔
  4. آپ کی کمر کی چوڑائی آپ کے پاؤں کے لمبائی کے برابر ہوتی ہے۔
  5. آپ کی کمر کا محیط (circumference) آپ کی گردن کے محیط کا عین دگنا ہوتا ہے۔
  6. اسی طرح آپ کی گردن کا محیط آپ کی کلائی کے محیط سے دگنا ہوتا ہے۔
  7. آپ کی ناک کی لمبائی آپ کی انگشتِ شہادت کی پہلی دو پوروں کے بالکل برابر ہوتی ہے۔
  8. آپ کے چہرے کی لمبائی آپ کے ہاتھ کی لمبائی کے مساوی ہوتی ہے۔
  9. آپ کی پنڈلی آپ کے پاؤں سے دگنی لمبی ہوتی ہے۔
  10. آپ کی دونوں آنکھوں کے درمیان کا فاصلہ آپ کی ایک آنکھ کی چوڑائی کے برابر ہوتا ہے۔
  11. چونکہ آپ کے بازوؤں کا کل پھیلاؤ آپ کے قد کے مساوی ہوتا ہے اس لیے ہاتھوں اور پاؤں کی دائیں بائیں حرکات مکمل طور پر دائروی ہوتی ہیں۔
  12. آپ کے شانے چوڑائی میں آپ کی کمر کی چوڑائی اور سر یا پیر کی لمبائی سے دگنے ہوتے ہیں۔
  13. آپ کا قد تقریباً آپ کے ہاتھ کی لمبائی سے دس گنا اور پاؤں کی لمبائی سے سات گنا ہوتا ہے۔
  14. آپ کی ناک کے پیندے سے آپ کی آنکھ کے بیرونی کنارے تک کا فاصلہ آپ کے کان کی لمبائی کے مساوی ہوتا ہے۔

تقویمِ احسن کی ایک جھلک تو آپ نے دیکھ لی۔ سورۃ التین کی باقی آیات بھی خاصی غورطلب ہیں۔ پوری سورت کا بامحاورہ ترجمہ کچھ یوں ہے:
"انجیر اور زیتون گواہ ہیں۔ اور سینا کا پہاڑ۔ اور یہ امن والا شہر۔ بےشک ہم نے انسان کو سب سے اچھی صورت پر خلق کیا۔ (اور) پھر اسے سب پستوں سے زیادہ پست کر ڈالا۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے سو ان کے لیے نہ ختم ہونے والا بدلہ ہے۔ اب اس کے بعد کیا (رہ جاتا) ہے کہ تو دین کو جھٹلائے؟ کیا اللہ حکم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر حکم کرنے والا نہیں؟"
ہر تان ہے دیپک! - اردو نگار - راحیل فاروق

جس طرح ادبیات میں غزل کو عرب، رباعی کو ایران، ہائیکو کو جاپان، افسانے کو روس اور ڈرامے کو یونان کے شناختی کارڈ کی حیثیت حاصل ہو گئی ہے اسی طرح گیت کو ساکنانِ برِ صغیر کے سفلی و نورانی جذبات کا بہترین ترجمان قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس مضمون میں ہمارا مدعا یہی ہے کہ اس ورثۂِ آبا کی نئی ہیئت کی تفہیم اور قدر دانی کی صورت پیدا کی جائے تا کہ بعدازاں اس کے آثار کو یورپ، افریقہ، انٹارکٹکا وغیرہ میں دیکھ کر دل سیپارا نہ ہو۔
پہلے تو یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ گیت صرف لکھا ہی نہیں جاتا بلکہ گایا بھی جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ بات آپ کو معلوم ہو مگر قندِ مکرر کے طور پر عرض کر دینے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ خیر، تو ہم بیان کر رہے تھے کہ گیت میں گائیکی کا عنصر نہایت اہم ہے۔ اس نکتے کو واضح کرنے کے لیے ہم ایک مثال پیش کرنا چاہتے ہیں۔
ایک معروف گیت کے بول کچھ اس طرح ہیں:
درد جب حد سے گزرتا ہے تو گا لیتے ہیں
جس غیرتِ ناہید نے اسے سماعت نواز کرنے کا بیڑا اٹھایا، اس کی ادائیگی ملاحظہ فرمائیے تو کچھ اس قسم کے شعلے لپکتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں:

درد جب حد سے گزرتا ہے تو گا لیتے ہیں

ہگا لیتے ہیں
ہگا لیتے ہیں
ہگا لیتے ہیں

اب بظاہر اس مصرعے سے شاعر کا جو مقصد تھا وہ فوت ہو گیا ہے، بلکہ کہنا چاہیے کہ کتے کی موت مر گیا ہے۔ لیکن بنظرِ غائر دیکھا جائے تو مغنی نے دراصل اس میں ذومعنویت پیدا کر کے ابلاغ کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ جن لوگوں کو مثلاً قبض کی شکایت رہتی ہے اور وہ پیٹ کی اس جان لیوا اینٹھن سے واقف ہیں جو بیت الخلا میں بیٹھے ہوئے مریض پر وارد ہوتی ہے، وہ گواہی دیں گے کہ درد کے حد سے گزرنے اور ہگا لینے میں جو مسیحائی کا رنگ پیدا ہو گیا ہے وہ اکیلے نغمہ نگار کے بس کی بات نہ تھا۔
کیا ہی تَپتا ہے، سُلگتا ہے، دُھواں دیتا ہے
ہجر کی شام تو دل باندھ سماں دیتا ہے

کون کمبخت نہ چاہے گا نکلنا لیکن
اتنی مہلت ہی ترا دام کہاں دیتا ہے

قول تو ایک بھی پورا نہ ہوا اب دیکھوں
کیا دلیل اس کی مرا شعلہ بیاں دیتا ہے

طبعِ نازُک پہ گزرتا ہے گَراں تو گزرے
زیب وحشی کو یہی طرزِ فُغاں دیتا ہے

خاص بندوں کو پکارے گا اُدھر تو رضواں
دعوتِ عام اِدھر شہرِ بُتاں دیتا ہے

ایک مدت سے بدن برْف ہے لیکن اب تک
کروٹیں دل کو کوئی سوزِ نِہاں دیتا ہے

نازنیں پڑھتے ہیں راحیلؔ کی غزلیں کیا خوب
داد ہر شعر کی ہر پیر و جواں دیتا ہے

راحیلؔ فاروق

۱۵ دسمبر ؁۲۰۱۶ء
ہے ایک ہی علاج بصیرت کی بھول کا
سرمہ لگا حضور کے پیروں کی دھول کا

افسونِ سامری ہے اسے شاعری نہ جان
"دیواں میں شعر گر نہیں نعتِ رسول کا"

باطن پہ ہو نگاہ تو یکساں ہیں سب چمن
لیکن جدا ہے رنگ مدینے کے پھول کا

وارفتگی میں پاسِ ادب کی بھی شرط ہے
وحشی کو ہے معاملہ درپیش اصول کا

راحیلؔ نے بھی پائی ہے توفیق نعت کی
آخر شرف دعا کو ملا ہے قبول کا

راحیلؔ فاروق

۱۴ دسمبر، ؁۲۰۱۶ء​
ہے ہمارے مشاعروں کا یہ حال
جس کی اب نقل کرتے ہیں نقال

روشِ اہلِِ فن پہ ہنستے ہیں
رنگِ بزمِ سخن پہ ہنستے ہیں

کیا زمانے میں عذر ہے توبہ
شاعری کی یہ قدر ہے توبہ

گو کہ پاسِ ادب نہیں کرتے
ہجو کچھ بے سبب نہیں کرتے

چلتے ہیں شاعرانِ خوش تقریر
اپنے ہمراہ لے کے جم غفیر

کب سخن ور اکیلے جاتے ہیں
قدر دانوں کو لے کے آتے ہیں

جاتے ہیں معرکوں میں فوج سمیت
ساتھ ہوتے ہیں بے شمار پھندیت

جن کے ہمراہ یہ ہجوم نہ ہو
کبھی ان کی غزل کی دھوم نہ ہو

اک اُدھر واہ واہ کرتا ہے
اک اِدھر آہ آہ کرتا ہے

واہ کیا طرزِ درفشانی ہے
واہ کیا وضعِ خوش بیانی ہے

کوئی کہتا ہے واہ کیا کہنا
فی الحقیقت ہے یہ نیا کہنا

اس سے بہتر کہے گا کیا کوئی
کب ہے استاد آپ سا کوئی

اس زمانے میں آپ یکتا ہیں
واقعی فخرِ میر و مرزا ہیں

کب میسر تھا ان کو حسنِ کلام
کچھ نہ تھے وہ فقط ہے نام ہی نام

ان کے دیواں میں کب یہ نشتر ہیں
بخدا آپ ان سے بہتر ہیں

ان سے واللہ آپ اچھے ہیں
ثمَّ باللہ  آپ اچھے ہیں

کہیں بڑھ کر ہے آپ کا انداز
نکتہ سنجی ہے یا کہ ہے اعجاز

آپ قدرت نمائے معنی ہیں
فی الحقیقت خدائے معنی ہیں

آپ کے آگے کون منہ کھولے
کس کا مقدور ہے جو کچھ بولے

ہے یہ انداز آپ کا حصہ
ہے یہ اعجاز آپ کا حصہ

دل میں ہم خوب کر چکے ہیں غور
آپ ہی آپ ہیں نہیں کچھ اور

آپ ایسے ہیں آپ ویسے ہیں
ہم سمجھتے ہیں آپ جیسے ہیں

آپ کیا قدر اپنی پہچانیں
پوچھیے ہم سے آپ کیا جانیں

آپ کا کام ہے ہوا بندی
آپ پر ختم ہے ادا بندی

ایسے شاعر ہوئے تھے کب پیدا
نہ ہوئے تھے نہ ہوں گے اب پیدا

الغرض بے تکی اُڑاتے ہیں
بچھے جاتے ہیں لوٹے جاتے ہیں

ان کی تعریف ہے وہ لا طائل
جس سے دکھتا ہے دوسروں کا دل

منہ سے وہ شعر ادھر نکالتے ہیں
یہ ادھر ٹوپیاں اُچھالتے ہیں

جن کی تعریف کا تھا یہ مذکور
اپنے دل میں بہت ہی ہیں مسرور

اگر اس میں کسی کو غصہ آئے
کچھ تعجب نہیں کہ لٹھ چل جائے

نہیں یہ بات کچھ تعجب کی
بلکہ اکثر ہوا ہے ایسا بھی

پڑھتے ہیں لفظ لفظ رک رک کے
ہو رہے ہیں سلام جھک جھک کے

گو بظاہر ہے انکسار بہت
دل میں ہے جوشِ افتخار بہت

کس قدر تنتے ہیں بررتے ہیں
خود بھی تعریف اپنی کرتے ہیں

ہوتی ہے لفظ لفظ کی تشریح
ہوتی ہے بات بات کی تصریح

کیوں نہ ہوں اپنی مدح کے شائق
جانتے ہیں کہ ہم ہیں اس لائق

کس قدر دور ہیں معاذ اللہ
کیسے مغرور ہیں معاذ اللہ

نکتہ فہم ایسے نکتہ داں ایسے
شاعر ایسے ہیں قدر داں ایسے

جھوٹی تعریف کی حقیقت کیا
جب حقیقت نہ ہو تو لذت کیا

اس میں کیا حظ ہے یہ مزا کیا ہے
کوئی پوچھے انھیں ہوا کیا ہے

گو کہ میری مذمتیں ہوں گی
میں سمجھتا ہوں جو گتیں ہوں گی

صاف گوئی کی داد پاؤں گا
میں بھی اپنی مراد پاؤں گا

کیا غرض ہے جو میں کسی سے ڈروں
بات سچی ہے کیوں نہ کہہ گزروں

مجھ کو بھاتی نہیں لگی لپٹی
بلکہ آتی نہیں لگی لپٹی

طرزِ اہلِ سخن سے ناخوش ہوں
روشِ اہلِ فن سے ناخوش ہوں

شاعری ہے اگر اسی کا نام
دور سے ایسی شاعری کو سلام

مظہر الحق٭


٭ یہ مثنوی مرزا ہادی رسواؔ کے مشہور ناول امراؤ جان ادا سے لی گئی ہے۔ ایک مشاعرے کا احوال بیان کرتے ہوئے رسواؔ نے لکھا ہے کہ "مظہر الحق نامی ایک شاعر (لکھنؤ سے) کہیں سے باہر کے رہنے والے جو اس وقت اتفاق سے واردِ مشاعرہ تھے، انھوں نے یہ نظم پڑھی۔" اس کا عنوان نہیں دیا گیا۔ موجودہ عنوان ناچار میں نے خود تجویز کیا ہے۔