مار ڈالا تری محبت نے
جان لے لی وفورِ نعمت نے

کتنے جذبوں کے سر خرید لیے
دل کی دنیا میں غم کی دولت نے

خون کا رنگ آنکھ میں پکڑا
عشق کی بےنشان عظمت نے

جب نہ سمجھا تو سب غلط سمجھا
دل کو کافر کیا ہدایت نے

کیوں عزازیلِ وقت کیا گزری
کیا دیا آپ کو عبادت نے

عشق افسانوی ہی اچھا تھا
دلکشی چھین لی حقیقت نے

آگ دکھلا کے دل کو اپنے تئیں
مات دے دی ہے ضو کو ظلمت نے

ہم بھی اہلِ کرم ہیں اہلِ کرم
بھیک منگوائی ہے ضرورت نے

مسکراہٹ کمال ہے راحیلؔ
کیا کیا دل کے ساتھ حضرت نے

راحیلؔ فاروق

۲۱ اپریل ۲۰۱۷ء
میں پنجاب کے ایک ایسے گھر میں پیدا ہوا ہوں جس کے شجرے میں مقامیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ مجھے پنجاب اور پنجابیت سے عقیدت کی حد تک لگاؤ ہے۔ میں کچھ محققین کی اس رائے کا فخر کے ساتھ ذکر کیا کرتا ہوں کہ پنجابی زبان کا اصل مرزبوم دیومالائی دریا ایراوتی یعنی راوی کا وہی کنارہ ہے جس پر رام، لچھمن اور سیتا کھیلا کرتے تھے اور جہاں میری نسل ان کے وارثوں کی حیثیت سے مدتِ مدید سے آباد چلی آ رہی ہے۔ اسی مرکز سے دائیں بائیں نکل کر پنجابی نے سرائیکی، ہندکو، گوجری، ماجھی وغیرہ لہجے اختیار کیے ہیں۔
مگر اس تمام تر عصبیت کے باوجود میں تسلیم کرتا ہوں کہ پنجابی محض اہلِ پنجاب کی زبان ہے۔ اہلِ پاکستان کی نہیں۔ اہلِ برِ صغیر کی تو بالکل بھی نہیں۔ قبولیتِ عامہ کے اس درجے پر ہمارے ہاں اگر کوئی زبان فائز ہے تو وہ محض اردو ہے جس کا ایک اور نام ہندی بھی ہے۔ یہی زبان اس لائق ہے کہ جہاں مختلف اللسان لوگ مل بیٹھیں وہاں گفتگو اور اظہارِ خیال کے لیے استعمال کی جائے۔ اگر تناظر عالمی سطح کا ہو تو پھر یہی گدی انگریزی کو منتقل کر دینی چاہیے۔
ہمارے ہاں گزشتہ دنوں سماجی ویب گاہوں پر ایک انگریزی مکتب کے اس مراسلے پر بہت غل ہوا جس میں پنجابی کو واہیات زبان قرار دے کر اس کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ مجھے اس بات کا دکھ ہوا تھا۔ مگر ساتھ ساتھ ایک تجسس بھی پیدا ہوا تھا کہ آخر بلھے شاہ اور میاں محمد بخش کی زبان پر یہ وقت کیسے آ گیا۔ میرے ذہن کے منطقی گوشوں میں یہ کھد بد شروع ہو گئی تھی کہ اس غلط فہمی یا انقلاب کی بنا آخر کیسے پڑی؟
مجھے رہ رہ کر یاد آ رہا تھا کہ پنجابی وہ زبان ہے جس کی کوکھ میں اردو جیسی عالمگیر اور مہذب زبان نے پرورش پائی تھی۔ جس کا لسانی شعور ناسخؔ کے وسیلے سے اردو کی لفظیات پر ثبت ہو چکا ہے۔ جس کے اصول فارسی جیسی مہذب اور شائستہ زبان کے سے سانچے میں یوں ڈھلے ہوئے ہیں کہ دونوں سگی بہنیں معلوم ہوتی ہیں۔ جو اپنی تصریفات کے تنوع اور بلاغت میں گاہے گاہے عربی کے برابر جا پہنچتی ہے۔ جس میں تاجدارِ ہند بہادر شاہ ظفرؔ نے بھی نہایت اہتمام سے سخن سنجی کی کوشش فرمائی تھی۔ جس کی بابت انشا اللہ خان انشاؔ جیسا صاحب نظر اور مقتدر عارفِ تہذیب یہ کہنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ
سنایا رات کو قصہ جو ہیر رانجھا کا
تو اہلِ درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
جس کا طوطی آج بھی پاک و ہند میں یوں بولتا ہے کہ زاویہ پڑھنے والوں سے لے کر فلم بینوں تک ہر کسی تک اس کی کچھ نہ کچھ صدائیں پیہم پہنچتی رہتی ہیں۔ کیا سبب، کیا غضب کہ یہ زبان غیرمہذب قرار پا گئی؟
کچھ لوگوں نے تب بھی یہ نکتے اٹھائے تھے کہ پنجابی کا استعمال غلط کیا جاتا ہے۔ اسے ٹھٹھے اور واہی تباہی کی زبان خود اہلِ پنجاب نے بنا کر رکھ دیا ہے۔ مگر شنیدہ کے بود مانندِ دیدہ؟ اس شور شرابے کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجھے بچشمِ خود اور بنظرِ غائر ان رویوں کا مطالعہ کرنے کی تحریک اور موقع ملا جو اس تہمت کے ذمہ دار بنے ہیں۔ میں نے خود دیکھا کہ یہ زبان کیونکر بولی جاتی ہے اور اس کا اثر لوگوں پر کس طرح کا مرتب ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ شاید بہت عرصے سے ہو رہا تھا مگر آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل کے مصداق میری توجہ اس سے پہلے اس طرف نہ ہوئی تھی۔ اب افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ انگریزی مدرسہ کچھ ایسا غلط بھی نہ تھا۔ پنجابی واقعی فی زمانہ ایک گری ہوئی زبان کی سطح پر پہنچ گئی ہے یا پہنچا دی گئی ہے جس میں گفتگو بذاتِ خود بدویت کی ایک نشانی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ اس بات کا بہتوں کو دکھ ہو گا مگر میرا دکھ تب دونا ہو جاتا ہے جب میں یہ دیکھتا ہوں کہ یہ بدنامی کن اسباب سے پیدا ہوئی ہے۔
بات پنجابی زبان کی نہیں۔ بات دراصل اس کے بولنے والوں اور ان کے رویوں کی ہے۔ اہلِ پنجاب اپنی بےباکی اور آزادہ روی کے سبب ہمیشہ سے معروف ہیں۔ مگر امتدادِ زمانہ کے اثرات کچھ ایسے ہوئے ہیں کہ تہذیب کے معیارات نے پنجابیوں کے کسی زمانے کے ان محاسن کو معائب میں شمار کرنا شروع کر دیا ہے۔ صاف گوئی خوبی نہیں رہی بلکہ بدتمیزی کے دائرے میں داخل سمجھی جانے لگی ہے۔ خوش طبعی اور دل لگی کو اس رنگ میں روا رکھنا ہرزہ سرائی اور پھکڑ پن خیال کیا جانے لگا ہے جو اہلِ پنجاب کا طرۂِ امتیاز رہا ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا ہے کہ اہلِ پنجاب نے اس تغییرِ زمانہ کے ردِ عمل میں اپنے رویوں کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی بجائے الٹا انھیں پنجابی میں ملفوف کرنے کی روش اپنا لی ہے۔ یعنی جہاں دل کی بھڑاس نکالنی خلافِ تہذیب خیال کی جائے وہاں بجائے اس سے گریز کرنے کے پنجابی پر منتقل ہو جاتے ہیں۔ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی!
عبرت کا مقام یہ ہے کہ اب غیراہلِ زبان بھی ایسے موقعوں پر بعض اوقات مزاحاً اور استہزاً پنجابی ہی کا سہارا لینے لگے ہیں۔ اس بھونڈے پن کا بہت بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ پنجابی زبان کے بارے میں ایک انتہائی نامناسب تاثر لوگوں میں ابھرا ہے۔ یعنی اسے گالم گلوچ، ذومعنیٰ کلام اور یاوہ گوئی کے لیے موزوں ترین زبان خیال کیا جانے لگا ہے۔ جب اس نہج پر ہم نے اسے آپ پہنچا دیا تو پھر کیا وجہ کہ اب اسے بچوں کے لیے نامناسب زبان قرار نہ دیا جائے؟ قہر تو یہ ہے کہ خود اہلِ پنجاب کی بڑی تعداد بھی اپنے بچوں سے سے پنجابی میں گفتگو تب تک نہیں کرتی جب تک مضحکہ اڑانے یا دشنام طرازی کا قصد نہ ہو۔ معصوموں کو پڑھاتے انگریزی ہیں، بولتے اردو ہیں اور نامناسب باتوں کے لیے پنجابی پر اتر آتے ہیں۔ اگر اپنی زبان سے محبت اسی دوغلے پن کا نام ہے تو اس کی بالکل ٹھیک ٹھیک سزا پنجابی اور پنجابیوں کو مل گئی ہے اور شاید مزید بھی ملتی رہے گی۔
ایک اور اہم نکتہ اس ضمن میں یہ ہے کہ نسبتاً جارح مزاج ہونے کے باعث اہلِ پنجاب ان جگہوں پر بھی پنجابی بولنے سے باز نہیں آتے جہاں آداب اس کی اجازت نہیں دیتے۔ مختلف پس منظروں کے لوگوں کی محفل میں اگر کوئی دو لوگ آپ کو دھڑلے سے ایک اجنبی زبان بولتے نظر آئیں تو اغلب ہے کہ وہ پنجابی ہی ہو گی۔ گو کہ یہ وتیرہ ہر قوم کے طبقۂِ جہلا میں پایا جاتا ہے کہ وہ مزاح، شدت اور مجادلے وغیرہ کی صورت میں ماحول کی پروا کیے بغیر جھٹ اپنی مادری زبان کا پلو تھام لیتے ہیں مگر پنجابیوں کا پڑھا لکھا طبقہ بھی عموماً اس عیب سے بری نہیں۔ اس بدمذاقی کا نتیجہ اکثر تکدر اور تنفر کی صورت میں نکلتا ہے۔ گویا یہ اہلِ پنجاب کا ایک اور پھوہڑ پن ہے جو ان کی انتہائی وقیع اور جمیل زبان کے حق میں سمِ قاتل بن گیا ہے۔
میں ذاتی طور پر ابلاغ کے سلسلے میں کافی کوڑھ مغز واقع ہوا ہوں۔ اگر کوئی زبان مجھے نہیں آتی تو اس کے قائلین کے لہجے، تاثرات اور حرکات وغیرہ کی مدد سے فحوائے کلام کا اندازہ لگانا میرے لیے تکلیفِ ما لا یطاق کا حکم رکھتا ہے۔ مجھے اکثر تجربہ ہوا ہے کہ میرے ساتھیوں نے اچانک کسی غیر زبان میں گفتگو شروع کر دی اور میں نے خود کو انتہائی اجنبی محسوس کیا۔ یہ انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ ایسے موقعوں پر ہر قہقہہ اپنی ذات پر لگایا گیا معلوم ہوتا ہے اور ہر سرگوشی میں اپنی غیبت نظر آتی ہے۔ پھر میں سوچتا ہوں کہ جب میرے بھائی بند پنجابی میں یونہی گفتگو کرتے ہیں تو اور لوگوں کو کس قدر کوفت ہوتی ہو گی۔ وہ خود کو کس قدر اجنبی محسوس کرتے ہوں گے؟ جس کثرت سے یہ وقوعہ ہمارے ہاں عام طور پر ہوتا ہے ان کی طبیعت میں پنجابی سے نفرت کتنی ترقی کر جاتی ہو گی؟ پھر یہ بھی ہے کہ یہ تمام نتائج مجھے محض ناقدانہ جائزے اور تفکر و تدبر سے حاصل نہیں ہوئے بلکہ میں نے بہت سے لوگوں کو باقاعدہ پنجابی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے دیکھا ہے۔ بلکہ مجھے یقین ہے کہ اگر آپ ایک ہوش مند پنجابی ہیں تو آپ کو بھی یہ تجربہ ہوا ہو گا۔ اور اگر نہیں ہیں تو یہ صدا خود آپ نے کبھی نہ کبھی ضرور بلند کی ہو گی۔
اس مسئلے کا حل فردِ واحد کے پاس نہیں۔ یہ ایک پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ اس کے لیے آگاہی اور شعور کی تقسیم ضروری ہے۔ میں اور آپ اگر کچھ کر سکتے ہیں تو محض یہ کہ اپنے حصے کے دیے جلائیں اور پنجابی کو اس کے جائز مقام سے محبت یا نفرت میں سرِ مو ادھر ادھر نہ ہونے دیں۔ پنجابی ہیں تو غیر اہلِ زبان کی موجودگی میں اپنی زبان کے بےجا استعمال سے گریز کریں اور نہیں ہیں تو ایسی چیرہ دستیوں کو فرد یا ذات کی سطح پر دیکھیں نہ کہ قوم یا زبان کی سطح پر۔ یہ سب کہہ چکنے کے بعد میں اپنی قوم اور زبان کے حق میں دعا ہی کر سکتا ہوں، اور کچھ نہیں!
میرے بھائی، میرے محسن، میرے مربی، محمداحمد کے لیے!

جواں بخت کو نیک اختر مبارک
مبارک مبارک مکرر مبارک

نیا ہی رہے یہ نیا رشتہ دائم
نئی زندگی اور نیا گھر مبارک

ہوئے دل کے ویرانے آباد آخر
محبت کی مسجد کو دو سر مبارک

معیت میں عزت رفاقت میں الفت
تبرک تبرک سے بڑھ کر مبارک

خدا پاس لایا خدا ساتھ رکھے
دلِ منتظر کو ہو دلبر مبارک

جو دل میں ہے راحیلؔ لب پر نہ کیوں ہو
سراسر مبارک برابر مبارک​

راحیلؔ فاروق
۱۰ اپریل ؁۲۰۱۷ء
باوفا کوئی کوئی ہوتا ہے
میں بھی تھا کوئی کوئی ہوتا ہے

قدر کر میری قدر کر ظالم
دل جلا کوئی کوئی ہوتا ہے

ابنِ آدم کے روگ بہتیرے
لادوا کوئی کوئی ہوتا ہے

کون ظالم نہیں زمانے میں
آپ سا کوئی کوئی ہوتا ہے

دل میں کاہے نہ چور گھر کرتے
در بھی وا کوئی کوئی ہوتا ہے

جس طرح ہم ہیں آپ کے سرکار
بخدا کوئی کوئی ہوتا ہے

سب کا ہوتا ہے درد کوئی نہ کوئی
درد کا کوئی کوئی ہوتا ہے

آئنہ آپ آئنہ بیں آپ
دیکھنا کوئی کوئی ہوتا ہے

یوں تو قاتل ہیں ان گنت راحیلؔ
آشنا کوئی کوئی ہوتا ہے

راحیلؔ فاروق

۴ اپریل ؁۲۰۱۷ء
اگلے ماہ میرے والد کو اس دنیا سے گزرے بارہ سال پورے ہو جائیں گے۔ بارہ سال۔۔۔ ابو جان ہی کی زبانی سنا کرتے تھے کہ بارہ سالوں میں پتھر بھی بدل جاتے ہیں۔ مگر ان کی سبھی باتیں ٹھیک کب تھیں؟
کافی پرانی بات ہے۔ خاندان کا ایک نوعمر چھوکرا ابو جان کے پاس کراچی پہنچا تھا اور انھوں نے اسے فضائیہ میں ملازم کروا دیا تھا۔ اس کے چند سال بعد وہ خود اپنی ملازمت چھوڑ کر پنجاب چلے آئے تھے۔ انھیں اپنے والد یعنی میرے دادا سے آٹھ ایکڑ زمین ورثے میں ملی تھی مگر مزاج ایسا قلندرانہ پایا تھا کہ وطن لوٹنے کے بعد بھائیوں سے واپس لینی ضروری نہ سمجھی۔ ایک دہائی گزری تھی کہ اسی خدا کے پاس جا پہنچے جس کے عشق میں عمر بھر گرفتار رہے تھے۔
ان کے بھائی ان جیسے نہ تھے۔ بلکہ ان جیسا تو کوئی بھی نہیں۔ خود ہم بھی نہیں۔ چچا کیسے ہوتے؟ وہ زمین پر قابض ہو گئے۔ میں نے ریڈیو سے ملنے والے ٹکوں اور ٹیوشن سے ملنے والی پائیوں سے گھر چلانا شروع کیا۔ سب امیدیں دم توڑ چکی تھیں کہ وہی چھوکرا، جو اب تایا ابو کا داماد بن چکا تھا، ایک بطلِ جلیل کی طرح منظر نامے پر ابھرا۔ اس نے آتے ہی چچاؤں کو زمین سے بیک بینی و دو گوش نکال باہر کیا اور۔۔۔ خود قابض ہو گیا۔
بارہ سال گزر چکے ہیں۔ میں بدل چکا ہوں۔ میرا شہر بدل چکا ہے۔ میرا ملک بدل چکا ہے۔ مگر پتھر نہیں بدلے۔
پنچایتوں سے لے کر عدالتوں تک جو کچھ بس میں تھا کر چکا۔ مجھ سے بہتر کون جانتا ہے کہ وطنِ عزیز میں حق اور صداقت کے کیا معانی ہیں اور ثبوت یا شہادت کس چڑیا کو کہتے ہیں۔ ہاں البتہ خدا بہت کچھ جانتا ہے۔ سو چند سال ہوئے کہ میں اپنے دادا اور باپ کی وراثت سے دستبردار ہو گیا ہوں۔ اس چھوکرے کی ڈاڑھی لٹک گئی ہے اور اس میں سفید بال آ گئے ہیں۔ وہ انھی گلیوں میں وضو کے قطرے ٹپکاتا ہوا مسجد آتا جاتا رہتا ہے۔ اس کی اولاد کی عمریں وہی ہو گئی ہیں جو ہماری ابو جان کی وفات کے وقت تھیں۔ ہمارے پاس اپنے باپ کا ترکہ نہ تھا۔ ان کے پاس ہمارے باپ کا ترکہ بھی ہے۔
میں نے اس سفر میں دو منزلیں دیکھی ہیں۔ دو نتائج اخذ کیے ہیں۔ دو مغالطے ملاحظہ کیے ہیں۔ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ قانون کسی تحریر کا نام نہیں۔ قانون اس قوت کا نام ہے جو کسی نظریے کے تحت عمل کرتی ہے۔ پاکستان کی بابت اہلِ وطن اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ یہاں ۷۳ء کا آئین نافذ ہے۔ حالانکہ اس کتابچے کو سرسری نظر سے دیکھنے ہی سے یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ ان ضابطوں کا شاید دسواں حصہ بھی عملی طور پر لاگو نہیں ہے۔ اگر نفاذ اسی کا نام ہے تو ہماری ریاست کو تسلیم کرنا چاہیے کہ اس میں مثلاً اسرائیلی، ترکی، جاپانی، سعودی وغیرہ آئین بھی نافذ العمل ہیں۔ اتنا تو ان کا بھی حق بنتا ہے!
پٹواری سے لے کر وزیرِ اعظم تک ہر کوئی عوام کو اسی قانون کی خلاف ورزی سے ڈراتا ہے۔ عدالت اسی قانون کی باندی ہے۔ عمران خان اپنے ملک کے لیے نکلتا ہے یا راحیل فاروق اپنی وراثت کے لیے، یہی دھمکی ملتی ہے کہ قانون اپنے ہاتھ میں مت لینا نہیں تو سزا پاؤ گے۔ کیسی مزے کی بات ہے؟ حق چھیننے کے لیے قانون کی پابندی ضروری نہیں۔ واپس لینے کے لیے لازم ہے۔ مغالطہ یہی ہے۔
ہمارے ملک میں ۷۳ء کا آئینِ نافذ نہیں ہے۔ یہ آئین مقدس نہیں ہے۔ ہمارا قانون واجب الاحترام نہیں ہے۔ اس کی حقیقی حیثیت محض اخبار کے ردی کاغذ کی سی ہے۔ جس میں پکوڑے بھی بیچے جا سکتے ہیں اور چوہے مار دوائیاں بھی۔ یہاں تک کہ آپ کا ملازم آپ کے کتے کا لید بھی اس میں لپیٹ کر پھینکنے لے جا سکتا ہے۔ وطن کی سلامتی اور آبرو پر کوئی قیامت نہیں ٹوٹتی۔ یقین کیجیے۔
جو اصل آئین ہے اس کے ساتھ ایسا کبھی نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً آپ جنابِ عمرؓ کے دور کے کسی شخص کی طرح اپنے سربراہ کے اثاثوں پر سوال نہیں کر سکتے۔ آپ کو اخبار میں لپیٹ کر کتے کے لید کی طرح دور کر دیا جائے گا۔ آپ کسی مسجد میں کھڑے ہو کر امام شافعیؒ کی طرح مثلاً شیعہ اور سنی سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ تم دونوں ٹھیک کہتے ہو اور میں بھی ٹھیک کہتا ہوں۔ آپ کو جلد امام شافعیؒ کے پاس پہنچا دیا جائے گا۔ اسے آئین کہتے ہیں۔ یہ اصل قانون ہے۔ میں یہاں یہ سوال نہیں اٹھا رہا کہ یہ ٹھیک ہے یا غلط۔ میری مراد صرف یہ واضح کرنا ہے کہ آئین اور قانون درحقیقت کس چڑیا کے نام ہیں۔
ہم اس مغالطے میں بڑی دیر سے گرفتار ہیں۔ اس ہاتھی کی طرح جو بچپنے میں ایک کھونٹی سے باندھا جاتا ہے اور دیو بن جانے کے باوجود اسی سے بندھا رہتا ہے۔ ہم روزانہ دیکھتے ہیں کہ اصل قانون کیا ہے۔ مگر پھر کوئی قرمساق آتا ہے اور ہمیں مطلع کرتا ہے کہ قانون کی تحریر کیا ہے۔ اور قوم کا دیو قامت ہاتھی اپنی دم جتنی ایک کھونٹی کے آگے سجدے میں گر جاتا ہے۔ ہم نہیں سمجھتے کہ آئین لفظوں کا نام نہیں۔ ورنہ میری شاعری ہی کیوں نہ ہو۔ آئین اس ضابطے کا نام ہے جس کے مطابق چیزیں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ کائنات کے قوانین کو دیکھیے۔ آپ کو حق الیقین حاصل ہو جائے گا جب آپ دیکھیں گے کہ اصول سمجھ میں آئے نہ آئے، عمل میں آ کر رہتا ہے۔ ہم کتنے احمق ہیں؟ کاغذ کے چند پرزوں اور کانوں میں گونجتے چند لفظوں کو مقدس سمجھتے ہیں۔ بدبخت ہے وہ قوم جو یہ بھی نہیں جانتی کہ قانون تقدیس طلب نہیں کرتا، پیدا کرتا ہے۔
دوسرا مغالطہ یہ ہے کہ پاکستانی ایک بری قوم ہیں۔ اپنوں سے لے کر غیروں تک سب یہی باور کرواتے ہیں۔ وجہ؟ وجہ یہ کہ پاکستانی فریب دیتے ہیں۔ بدعنوانی کرتے ہیں۔ شدت پسند ہیں۔ جاہل ہیں۔ غیرجمہوری ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔
بچہ بگڑ جاتا ہے تو ماں باپ کو الزام دیا جاتا ہے۔ مگر خدا جانے کیوں پاکستانیوں کے جرائم کا الزام ریاست کو دینے کا رواج نہیں۔ حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ۲۰۱۱ء میں برطانیہ جیسی کلاسیک تہذیب نے کیا کالک اپنے منہ پر ملی تھی۔ بربریت کا ایک لاوا تھا جو صدیوں کے تمدن کی مٹی جھاڑ کر لندن پر ابل پڑا تھا۔ کسی نے نہیں کہا کہ انگریز نہایت گھٹیا اور وحشی قوم ہیں۔ سب دیکھ رہے ہیں کہ امسال امریکہ نے اپنی تاریخ کا شاید سب سے بڑا مذاق سہا ہے۔ ایک شخص جس کی بات بات سے جہالت، حماقت اور رذالت ٹپکتی ہے اس ملک کا سربراہ بن گیا ہے۔ کسی نے نہیں کہا کہ امریکی قوم پاگلوں اور نفسیاتی مریضوں کے ایک ہجوم کا نام ہے۔ مگر ریاستِ پاکستان کے سب جرائم پاکستانیوں کے محضر نامے میں لکھے جاتے ہیں۔ افسوس، صد افسوس!
پنجابی کی ایک مثل ہے کہ چار کتاباں عرشوں لتھیاں پنجواں لتھا ڈنڈا۔ یعنی صحائفِ اربعہ کے بعد پانچواں عرش سے ڈنڈا نازل کیا گیا۔ اس لحاظ سے ڈنڈے کو خاتم الصحائف کہنا چاہیے۔ یہ حتمی اور اعلیٰ ترین درجے کی ہدایت ہے۔ دنیا کی کسی بھی ملت پر نافذ کیجیے۔ تیر کی طرح سیدھی ہو جائے گی۔ جیسے برطانوی ہیں۔ جیسے امریکی ہیں۔ جیسے جاپانی ہیں۔ جیسے اونٹوں کا پیشاب پینے والے بدو آج کل ہو گئے ہیں۔ مگر پاکستان میں یہ مہدی بیچارہ فراعین کا غلام ہے۔ اسے کسی قانون کے تحت کر دیا جائے تو مجال ہے پاکستانیوں کی کہ خلاف ورزی کا سوچیں بھی؟ آخر امریکیوں اور عربوں سے بھی گئے گزرے تو نہیں ہیں ہم۔
اس دوسرے مغالطے کو نہایت توجہ سے دور کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ ہماری نفسیات میں ایک احساسِ جرم کی طرح بیٹھ گیا ہے۔ ہم خود اپنے لطیفے بناتے ہیں اور ہنستے ہیں۔ ہم بری قوم ہیں۔ ہم جاہل لوگ ہیں۔ ہم گھٹیا ہیں۔ ہم کام چور ہیں۔ ہم قانون شکن ہیں۔ نہیں۔ ہم انسان ہیں۔ سب جیسے۔ سب کی طرح ہم بھی ہجوم یا ملت کی حیثیت سے قانون تو درکنار، خدا سے بھی نہیں ڈرتے۔ سبھی کی طرح ہمیں بھی ایک ڈنڈا چاہیے جو راستی اور راستے کی طرف اشارے کرتا رہے۔ ہم بھی مہذب ہو جائیں گے۔ تہذیب اسی کا نام ہے۔ کہیں جا کر دیکھ لیجیے۔
قصہ مختصر، ہمیں ایک قانون چاہیے جس کے پاس نفاذ کا ڈنڈا ہو اور ایک ڈنڈا چاہیے جس کا نفاذ قانون کا پابند ہو۔ ہے کوئی قانون کے دلالوں اور ڈنڈے کی داشتاؤں میں سننے والا؟ سوچنے والا؟ سمجھنے والا؟
بےبہا نکتے بےصدا باتیں
دلربا لوگ دلربا باتیں

ابتدا کس قدر حسین ہوئی
ہم غزل آپ واہ وا باتیں

منتہائے کلام کیا کہیے
سرِ لب ہو گئیں فنا باتیں

بات کرتے ہیں اور جانتے ہیں
نہیں باتوں سے مدعا باتیں

دوستی دشمنی کا فیض ہے ایک
دم بدم ذکر جابجا باتیں

ہائے کیا آدمی کے ہونٹوں سے
تو بھی کرتا ہے اے خدا باتیں

ان کو معلوم کیا نہیں راحیلؔ
ان سے مل کر کریں گے کیا باتیں


راحیلؔ فاروق

۳۰ مارچ ؁۲۰۱۷ء
دل نکلتا ہے جان سے آگے
شاہِ من کچھ امان سے آگے

اس کے لطف و کرم کا کیا مذکور
سایہ ہے سائبان سے آگے

آبلہ پا نکل نہ جائیں کہیں
منزلِ بےنشان سے آگے

ٹھیک سمجھا ہوں کائنات کو عشق
حد ہے حدِ گمان سے آگے

کیوں مسافر ٹھہر نہیں جاتا
کچھ تو ہے اس مکان سے آگے

اس کے انجم بھی دیکھ اس کے بھی
ہے زمین آسمان سے آگے

سن کے آئے ہیں مہربان کا نام
چارہ گر مہربان سے آگے

ہجر ہے پھر وصال ہے توبہ
امتحان امتحان سے آگے

سر جھکا کر خموش بیٹھا ہوں
کیا کہوں رازدان سے آگے

تیر دیکھا نہیں گیا راحیلؔ
دل سے پیچھے کمان سے آگے

راحیلؔ فاروق


۲۹ مارچ ؁۲۰۱۷ء
اختلاف زندگی کا حسن ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے ہمیشہ ننگا ہی رہنا چاہیے۔ ہم نے یہ سبق بھلے نو سو چوہے کھا کر سیکھا ہو مگر حاجیوں کی ایک بڑی تعداد کے منہ کو ابھی تک خون لگا ہوا ہے۔ لہٰذا سب سے پہلے تو یہ گھنٹی باندھنی ضروری ہے کہ مضمون ہٰذا محض ازراہِ ترنم لکھا گیا ہے۔ اگر کسی کو تکلیف پہنچے تو اللہ جانتا ہے ہمیں خود بڑی تکلیف ہے۔ دہریوں اور مسلمانوں کی بحثوں میں ریلو کٹے کی طرح دونوں جانب سے شریک رہنے سے زیادہ بڑے اعزاز اور ذلت دونوں کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔
نیکی کے کاموں سے ہمیں طبعاً مناسبت نہیں رہی۔ لہٰذا اگر کوئی ہمیں مسلمانوں کا نمائندہ خیال کرے تو یہ اس کی سادہ لوحی پر دلیل ہے۔ اسی طرح دہریوں کا طرفدار سمجھنے والا بھی سخت بےوقوف ہے کیونکہ ہم دہریے ہیں ہی نہیں۔ آفتاب آمد دلیلِ آفتاب۔ ہاں ہمدردی ہمیں دونوں گروہوں سے ہے۔ مسلمانوں سے اس لیے کہ ان پر غلطی سے زوال آ گیا ہے۔ اس بات میں شبہ ہے کہ غلطی مسلمانوں کی تھی یا زوال کی۔ دہریوں سے اس لیے پیار ہے کہ کلیسا آگے ہو نہ ہو، ایک آدھ قبلہ و کعبہ ضرور ہمہ وقت بیچاروں کے پیچھے ہوتا ہے۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں۔
ایک کٹر مسلمان اور کٹر دہریے میں اس لحاظ سے غیرمعمولی اشتراکِ عمل پایا جاتا ہے کہ دونوں ہر وقت ہاتھ دھو کے اسلام کے پیچھے ہی پڑے رہتے ہیں۔ مسلمان بھائی کو سمجھانے کی کوشش کیجیے۔ وہ آپ کو حدیثیں سنائے گا۔ دہریے دوست کی منت کیجیے۔ وہ اور زیادہ حدیثیں سنائے گا۔ رفتہ رفتہ آپ کو اندازہ ہو گا کہ علومِ اسلامیہ میں جتنی وسعت کا دعویٰ کیا جائے کم ہے۔ اس سے شاید آپ کے ایمان میں اضافہ ہو۔ یا شاید آپ بھی دہریے ہو جائیں۔ کچھ کہا نہیں جا سکتا۔
حالانکہ ہر دو گروہ ایک دوسرے کو نہایت سچے دل سے پرلے درجے کا احمق اور گاؤدی جانتے ہیں لیکن باہر سے دیکھنے والوں کو نہ جانے کیوں ہمیشہ یہی گمان گزرتا ہے کہ خدا نے شاید انھیں فالتو عقل کی نعمت سے بھی سرفراز فرمایا ہے۔ ہم نے ہمیشہ دہریوں کی معروضات پر نہایت ہمدردی سے غور کیا ہے اور مسلمانوں کے ارشادات پر بھی کچھ کم دماغ سوزی نہیں کی۔ مگر نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس دردمندی کا نتیجہ ہماری توقعات کے بالکل برعکس نکلا ہے۔ یعنی اب دونوں گروہ متفقہ طور پر ہمیں احمق سمجھتے ہیں۔
ہم نے اس معاملے پر جس قدر غور کیا ہے اسی قدر دماغ کا دہی بنتا گیا ہے۔ یعنی ہم نے خود زندگی میں بہت بار سگریٹ الٹی طرف سے سلگا کر کش لگانے کی کوشش کی ہے اور اس قسم کے معاملات کو عین مقتضائے بشریت خیال کرتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص ہر بار یہی سعیِ نامشکور کرتا نظر آئے تو اسے سگریٹ نوش کی بجائے چرسی سمجھنا افضل ہے۔ مذہبی بحثوں میں دیے جانے والے اکثر دلائل کی نسبت ہم اس سے زیادہ کہنے سے معذور ہیں۔
تعجب ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں بہت سے ڈھلتی عمر کے مرد ڈاڑھی رکھ کر بھی لڑکیوں پر ٹھرک جھاڑنے سے باز نہیں آتے بالکل اسی طرح بظاہر دین کو دھتا بتا دینے کے باوجود بھی دہریوں کی نیت یا بدنیتی اسلام سے سیر نہیں ہوتی۔ دوسری جانب مومنین کا رویہ اس ضمن میں کچھ زیادہ ہی زنانہ سا دیکھنے میں آیا ہے۔ یعنی اکثر بحث میں کودتے بھی نہایت جوش و خروش سے ہیں اور غوطے کھا کر چیخیں بھی نہایت دردناک مارتے ہیں۔
مسلمانوں کا بس نہیں چلتا کہ کسی طرح خود کو طارق بن زیاد سے لے کر ابنِ سینا تک سب مشاہیرِ سلف کا بلاواسطہ خلف ثابت کر کے سلطانئِ پدر کے وارث قرار پا جائیں۔ ادھر دہریے ہیں کہ بعض اوقات اپنی حقیقی ولدیت پر بھی لیپا پوتی کی کوششوں میں مصروف دیکھے گئے ہیں۔ پھر دونوں ظالم اصرار بھی کرتے ہیں کہ تاریخ پڑھو۔حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ اس طرح بھی عالی نسب وہی قرار پاتے ہیں جو تاریخ نہیں پڑھتے۔ اکو الف ترے درکار!
خوف ناک بات یہ ہے کہ وجودِ باری تعالیٰ کے محض عقلی اور نقلی ثبوت ہی رائج نہیں بلکہ دہریوں کو تجلیات کے براہِ راست مشاہدے کے لیے سوئے عدم روانہ کرنے کا چلن بھی عام ہے۔ ہماری سمجھ میں آج تک یہ نہیں آیا کہ اس طریقے میں کیا مصلحت کارفرما ہے۔ یعنی اگر یہ انتقام ہے تو کچھ ایسا ہے جیسے کوئی ٹھیکےدار مزدوروں کو دیکھتے ہی کام سمجھانے کی بجائے ہر بار زبردستی گھر چھوڑ آیا کرے!
عورت اور اس کے حقوق کے معاملے میں مومنین و ملحدین متفق ہیں کہ بہت ظلم ہو رہا ہے۔ اس امر میں البتہ حسبِ دستور شدید اختلاف پایا جاتا ہے کہ یہ اندھیر مچا کون کمبخت رہا ہے۔ ایمان والے دہریوں کو اس کا اصل ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور دہریے تو ویسے ہی مسلمانوں کو جنت تک کھدیڑنے کے شائق ہیں۔ مگر جہاں تک ہم نے دیکھا ہے یہ شاید واحد معاملہ ہے جس میں کسی کے الزامات میں بھی رتی بھر صداقت نظر نہیں آتی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے مشاہدے کے مطابق تو دونوں طرف صورتِ حال وہی ہے جس کا ذکر سوداؔ اپنے مشہورِ زمانہ قصیدہ تضحیکِ روزگار میں ایک مظلومِ زمانہ گھوڑے کی نسبت کر گئے ہیں:
گھوڑی کو دیکھ لے ہے تو پادے ہے بار بار
ہمارا خیال ہے کہ اس درجے کی شیفتگی ملاحظہ کر چکنے کے بعد کم از کم حقوقِ نسواں سے متعلق تمام بہتان تراشی کو محض برائے بیت یا زیادہ سے زیادہ برائے قصیدہ ہی سمجھنا چاہیے۔
کوئی دن ہو گا کہ ہارے ہوئے لوٹ آئیں گے ہم
تیری گلیوں سے گئے بھی تو کہاں جائیں گے ہم

آنسوؤں کا تو تکلف ہی کیا آنکھوں نے
خون کے گھونٹ سے کیا شوق نہ فرمائیں گے ہم

زندگی پہلے ہی جینے کی طرح کب جی ہے
اب ترے نام پہ مرنے کی سزا پائیں گے ہم

کب تک اے عہدِ کرم باندھنے والے کب تک
دل کو سمجھائیں گے بہلائیں گے پھسلائیں گے ہم

آہ سے عرشِ معلیٰ کو نہ لرزا دیں گے
تو سمجھتا ہے قیامت ہی فقط ڈھائیں گے ہم

لاکھ مرتد سہی بے دین نہیں ہیں واعظ
بت نئے ہیں تو خدا کیا نہ نیا لائیں گے ہم

جاودانی کا تصور میں بھی آیا نہ خیال
ہم سمجھتے تھے ترے عشق میں مر جائیں گے ہم

بس اب اے دل کہ قسم کھائی ہے اس ظالم نے
جو تڑپتا ہے اسے اور بھی تڑپائیں گے ہم

دور تجھ سے تو قضا بھی نہیں لے جائے گی
سر بھی آخر تری دیوار سے ٹکرائیں گے ہم

بھولتا ہی نہیں ہم کو وہ ستمگر راحیلؔ
خاک اسے یاد نہ کرنے کی قسم کھائیں گے ہم

راحیلؔ فاروق

۱۹ مارچ ۲۰۱۷ء
فن کی نوعیت اور عوام پر اس کے اثرات کی بحث گو معاشرے کے لیے نہایت سودمند ہے مگر فنکار عام طور پر اس سے تقریباً بےنیاز ہی رہتا ہے۔ البتہ ایک کانٹا اور ہے جو کبھی کبھی اس کے دل میں کھٹکتا ہے۔ میری مراد اس سوال سے ہے کہ تخلیقِ فن بذاتِ خود کیا شے ہے؟ اس کی نوعیت کیا ہے؟ کیفیت کیا ہے؟ کیا ہم اس تجربے کو کسی طور پر سمجھ سکتے ہیں؟ اگر ہاں، تو کیا ہم اسے دوسروں کو بھی سمجھا سکتے ہیں؟ یعنی جب ایک موسیقار ایک دھن ترتیب دے رہا ہوتا ہے یا ایک شاعر غزل کہہ رہا ہوتا ہے تو وہ عمل کیا ہے اور کیسا ہے جس کے نتیجے میں یہ تخلیقات وجود میں آتی ہیں؟
دراصل تخلیقِ فن کا عمل ایک ایسا وجدانی اور سیلانی قسم کا تجربہ ہے کہ گزر چکنے کے بعد اس کا تجزیہ تو ایک طرف، بازیافت بھی کماحقہٗ ممکن نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی نوعیت یا کیفیت کو سمجھنے کی کوششیں ہمارے ذہن میں ایک مبہم اور بعض اوقات غلط سا خاکہ تو قائم کر دیتی ہیں مگر اس تجربے کا جوہر ہاتھ نہیں آ پاتا۔ میرا خیال ہے کہ ہم روایتی طور پر اس مسئلے کو غلط زاویۂِ نگاہ سے دیکھتے آئے ہیں۔ شاید ہمیں تخلیقِ فن کو اس کے نتائج و عواقب سے ماورا ہو کر خود فنکار کے محسوسات کے آئینے میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ممکن ہے عوام الناس کو وہ باتیں چونکا دیں جو میں کہنے جا رہا ہوں۔ مگر میرے مخاطب وہ نہیں ہیں۔ میرا خطاب دراصل فنکاروں سے ہے۔ یعنی ان لوگوں سے جو فنکارانہ تخلیق کے عمل سے گزر چکے ہیں یا گزرتے رہتے ہیں۔ باقی تمام لوگوں کے لیے یہ بحث فکر انگیز تو ہو سکتی ہے، معنیٰ خیز نہیں!
میرا تجربہ ہے کہ فنکار تخلیقِ فن سے قبل ایک عجیب قسم کے اضطراب سے گزرتا ہے جس میں بےانتہا کشش کا عنصر موجود ہوتا ہے۔ یعنی جب ایک شاعر غزل کہتا ہے تو اس سے کچھ پہلے اس کی طبیعت میں ایک بےچینی پیدا ہو جاتی ہے جو رفتہ رفتہ بڑھتی جاتی ہے۔ یہ کیفیت اپنے اندر اسی قسم کا اضطرار رکھتی ہے جس طرح کا ایک مرد اپنی محبوبہ کی یاد آنے پر محسوس کرتا ہے۔ یعنی ابھی وہ یاد پوری طرح ذہن کے آئینے پر منعکس بھی نہیں ہوتی کہ عاشق کا دل ڈوبنے لگتا ہے۔ اور بالآخر وہ جذبے کی شدت بڑھنے کے ساتھ عقلی سطح پر بھی باور کر لیتا ہے کہ اسے دراصل محبوبہ کی یاد ستا رہی ہے۔
بالکل اسی طرح کی کیفیت شعر کہنے سے قبل شاعر پر گزرتی ہے اور اس کے دل و دماغ میں ایک ہیجان برپا ہوتا ہے۔ وہ بھی اس ہیجان سے ایک وابستگی اور کشش محسوس کرتا ہے جو اسے بےبس کر ڈالتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ وقت آ جاتا ہے کہ یہ اضطراب اپنے عروج کو جا پہنچتا ہے اور شاعر کے پاس قلم اٹھا لینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہتا۔ گویا عاشق اپنی محبوبہ کے پاس جا پہنچا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں سے تخلیق کے عمل کا باقاعدہ طور پر آغاز ہوتا ہے۔ میں جہاں تک سمجھا ہوں یہ شاعر کا فطرت کے ساتھ وصال ہے۔ جس طرح عاشق اور معشوق دنیا و مافیہا سے بےخبر ہو کر ایک دوسرے میں گم ہو جاتے ہیں بعینہٖ اسی طرح شاعر ایک گونہ فریفتگی اور بےخودی کے عالم میں شعر کہنے شروع کرتا ہے۔
جنسی عمل اپنے اندر جس قسم کی والہانہ ازخود رفتگی اور نشہ رکھتا ہے بالکل وہی تخلیقی عمل کے دوران فنکار میں بھی مشاہدہ کیے جا سکتے ہیں۔ پھر یہی نہیں، اس کی تکمیل کے بعد فنکار عاشق ہی کی طرح ایک ایسا خمار بھی محسوس کرتا ہے جس میں لطف اور تکان دونوں بدرجۂِ اتم موجود ہوتے ہیں۔ ایک سرور اسے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جس میں وہ پوری طرح یقین نہیں کر پاتا کہ وہ واقعی اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اسی طرح اس کے لیے فوری طور پر دوبارہ اس عمل کی جانب متوجہ ہونا بھی ممکن نہیں ہوتا۔
اگر کسی عاشق کو اس کی محبوبہ بلاتردد مل جائے اور اسے وصال کے لیے کوئی کشٹ نہ بھوگنے پڑیں تو وہ اس درجے کا لطف کبھی نہیں اٹھا سکتا جو صدہا مصائب اور رکاوٹوں کو عبور کرنے کے بعد ملنے پر نصیب ہوتا ہے۔ شاعر کا معاملہ بھی یہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کی راہ ظالم سماج نہیں مارتا بلکہ قواعدِ فن اور عروضی پابندیاں اس کے پاؤں کی بیڑیاں بنتی ہیں۔ مگر جس قدر استقامت اور استقلال کے ساتھ وہ ان مزاحمتوں سے نمٹتا جاتا ہے اسی قدر اہتزاز تخلیق کے لمحوں میں اسے ارزانی ہوتا ہے۔
عملی نقطۂِ نگاہ سے دیکھا جائے تو شاید بات اور بھی واضح ہو جاتی ہے۔ عام آدمی کے مزاج میں فنکارانہ جوہر کا فقدان کم و بیش اسی قسم کے میکانکی طرزِ حیات کو جنم دیتا ہے جو ایک زاہدِ مرتاض کے ہاں تجرد کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔ مگر فنکار اور عاشق کی زندگی ان مشینی رویوں کے برعکس ایک نامیاتی اور زندہ روش پر قائم رہتی ہے۔ یعنی ہر دو کے دل میں اکثر ایک تلاطم اور تموج ایسا برپا ہوتا رہتا ہے جو زندگی اور معاشرے کے جمود کا دشمن ہے۔
پھر یہ بھی طے ہے کہ جذبات کا مناسب نکاس انسان کی جسمانی سے لے کر روحانی صحت تک کا ضامن ہے۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ اظہارِ فن یا تخلیقِ فن کا سب سے بڑا وظیفہ ذاتی اور حیاتیاتی ہے۔ یعنی ہر بار سامنے نظر آتی ہوئی موت کا رخ موڑ کر فنکار کو ایک نئی زندگی بخشنا۔ دوسرے لفظوں میں، اگر تخلیقِ فن کے تمام راستے مسدود کر دیے جائیں تو یہ امر فنکار کے حق میں پیغامِ اجل کا حکم رکھتا ہے۔
گویا فنکار عاشق ہے اور فطرت معشوق۔ اور تخلیقِ فن عاشق و معشوق کے باہمی اختلاط کا عمل ہے۔ یہاں مجھے وہ پرانے لوگ یاد آ رہے ہیں جو یہ یقین رکھتے تھے کہ شاعروں کو شاعری کی دیوی الہام کے ذریعے سے تعلیم کرتی ہے۔ مجھے تسلیم کرنا پڑے گا کہ ان کی بات میں بہرحال صداقت کا ایک بڑا عنصر موجود ہے۔ بلکہ ممکن ہے کہ وہ تخلیقی عمل کو کم و بیش اسی زاویے سے دیکھتے ہوں جس سے ہم آج اسے دیکھ رہے ہیں اور ان کی بات امتدادِ زمانہ کے سبب ہم تک پوری یا صحیح نہ پہنچ پائی ہو۔
غم سے نظریں چرائے پھرتا ہوں
خود کو سینے لگائے پھرتا ہوں

نہ کریدو کہ مختصر نہیں بات
داستانیں چھپائے پھرتا ہوں

کچھ تو منکر نکیر جانے بھی دیں
بوجھ آخر اٹھائے پھرتا ہوں

میں نے کب بندگی کا وعدہ کیا
میں مکرتا ہوں ہائے پھرتا ہوں

میں کہاں میں رہا ہوں اب لوگو
خود کو خود سا بنائے پھرتا ہوں

دل کہاں رہ گیا ہے سینے میں
آگ سی اک لگائے پھرتا ہوں

وہی نکلی ہے داستاں سب کی
میں جو اپنی بنائے پھرتا ہوں

بھولنے والے وہ نہیں راحیلؔ
انھیں عمداً بھلائے پھرتا ہوں

راحیلؔ فاروق

۱۳ مارچ ۲۰۱۷ء​