ایک شخص نے مشہور عرب شاعر متنبی سے کہا:
"میں نے دور سے آپ کو دیکھ کر عورت سمجھا۔"
متنبی نے کہا:
"میں نے جب دور سے دیکھا تو آپ کو مرد سمجھا تھا۔"
---
دلی میں نیا کوتوال وارد ہوا۔ غالبؔ سے ملاقات ہوئی تو اس نے ازراہِ تفنن کہا، "مرزا! دلی میں گدھے بہت ہیں۔"
مرزا صاحب نے فرمایا:
"نہیں، بھائی۔ کبھی کبھی باہر سے آ جاتے ہیں۔"
---
کوئی صاحب داغؔ دہلوی سے ملنے آئے اور ملے بغیر لوٹ گئے۔ داغؔ نے شاگرد کو دوڑایا۔ دوبارہ آئے تو جانے کی وجہ پوچھی۔ انھوں نے کہا، "آپ نماز پڑھ رہے تھے۔"
داغؔ نے کہا:
"حضرت، نماز پڑھ رہا تھا۔ لاحول تو نہیں پڑھ رہا تھا جو آپ نکل بھاگے۔"
---
مشہور امریکی لغت نگار نوح ویبسٹر اپنی ملازمہ کے ساتھ خوش وقتی میں محو تھے کہ ان کی بیگم اندر داخل ہو کر چلائیں، "حیران ہوں میں!"
لغت نگار نے تصحیح کی:
"نہیں، میری جان۔ حیران تو میں ہوں۔ تم پریشان ہو!"
دے تلے آسمان نے مارا
مجھ کو میری اُٹھان نے مارا

دل کی دنیا کو یاد لُوٹ گئی
یہ جہان اس جہان نے مارا

تیغِ بُرّاں ہے حلق میں گویا
مجھے میری زَبان نے مارا

آگ کا کاروبار خوب نہ تھا
خود کو شعلہ بیان نے مارا

دل میں ارمان بستے تھے کیا کیا
خلق کو حکمران نے مارا

عنفوانِ شباب اور وہ گلی
اس زمان و مکان نے مارا

حسن راحیلؔ کو پچھاڑ گیا
زور کتنا جوان نے مارا

راحیلؔ فاروق

۲۴ فروری ؁۲۰۱۷ء
زندگی کیا ہے؟ تماشا ہے تفنن ہی تو ہے
میری اوقات ہے کیا اور ہے کیا تیری بساط
مجھے اس بات کا دکھ ہے تجھے اس بات کا دکھ
کس قدر مضحکہ انگیز ہیں اس کھیل میں ہم
ہے مجھے خون کے رشتوں کے بدل جانے کا غم
نفرت اس رنگ سے لگتا ہے تجھے بھی ہے بہت
بھوک جو تجھ کو رلاتی ہے مجھے بھی ہے بہت
سالِ نو سے بھی تھی دونوں کو تمنائے نشاط
یہی امید کہ بھر پائے گا پیٹ اب کے برس
پر اب امید کی بلبل بھی نوا سنج نہیں
پھر ہمی دونوں پہ موقوف بھی یہ رنج نہیں
بین کرتے ہوئے روتے ہوئے لمحات کا دکھ
سب کو ہے ہر کہ و مہ ہر کس و ناکس کو ہے
گندے نالوں میں پڑے رینگنے والے کیڑے
عمر بھر گندگئِ زیست میں سڑنے والے
ان سے آغاز کر اور اہلِ دَوَل تک گن جا
جن کی حشمت پہ تجھے اور مجھے رشک آتا ہے
آسمانوں کو زقندوں میں جکڑنے والے
جن کے پیروں تلے اِفلاس کچل جاتا ہے
جن کی جھولی میں مقدر کا دیا ہُن ہی تو ہے
کوئی بھی خوش نہیں کم بخت کوئی بھی تو نہیں
پاس سے دیکھ ذرا خیر سے ہر آنکھ ہے نم
ہے فضا دہر کی وہ رشکِ جہنم کہ یہاں
عیش جُرّے کو میسر ہے نہ کرگس کو ہے
زندگی تلخ ہے اے دوست! نہایت ہی تلخ
ہم جواں سال ہیں آ ہم اسے آسان کریں
جو ترے ذہن میں ترکیب ہے کیا اچھی ہے
خود پہ احسان کریں لوگوں پہ احسان کریں
چل مرے دوست میں تیار ہوں بسم اللہ کر
بلکہ تیار تو سب لوگ ہیں ڈر جاتے ہیں بس
آ مری جان بہت دیر ہوئی پڑھ کلمہ
ہے جہاں سوختنی آگ لگا دے اس کو
جو بھی رنجش ہے دھماکے سے اڑا دے اس کو

راحیلؔ فاروق

۲۴ فروری ۲۰۱۷ء​
بات کہنے کی نہیں بات چھپانے کی نہیں
دل کی باتیں ہیں یہ لوگوں میں سنانے کی نہیں

جبر سے شیخ کرے داخلِ جنت تو کرے
زندگی موت کی باتوں میں تو آنے کی نہیں

کچھ تو کر خستگی اپنی پہ نظر اے دنیا
یہ تری عمر نئے فتنے اٹھانے کی نہیں

چل پڑے تو کبھی دیکھا نہیں مڑ کے ہم نے
جی میں آئی تو سنی ایک زمانے کی نہیں

سختئِ راہ تھکا دے تو تھکا دے ورنہ
جستجو تیرے مسافر کو ٹھکانے کی نہیں

کوئے جاناں سے بہت شکوے سہی پر راحیلؔ
آ گئے ہو تو ضرورت تمھیں جانے کی نہیں

راحیلؔ فاروق

۲۲ فروری ۲۰۱۷ء
وحشت کی آگ آگ تھی فرقت کی لو نہ تھی
ایسا دھواں ہوا کہ لگا تو بھی تو نہ تھی

تم نے ستم کیا تو پشیمان کیوں ہوئے
میں نے یہ کب کہا کہ مجھے آرزو نہ تھی

وہ زندگی جو تیرے شہیدوں نے کی ہے دوست
آبِ بقا کی بوند تھی دل کا لہو نہ تھی

منزل کے ہر حجاب نے چکرا دیا مجھے
موجود جا بجا تھی مگر رو برو نہ تھی

راحیلؔ سوزِ عشق سے پہلے جہان میں
آفاق تھے نگاہ نہ تھی جستجو نہ تھی

راحیلؔ فاروق

۱۴ فروری ؁۲۰۱۱ء
جو بات ہماری تھی وہ بات ہی کب کی ہے
اجمالِ وفا میں سب تفصیل ادب کی ہے

سر مارتے پھرتے ہیں جو دشت میں آدم زاد
کچھ ہاتھ خود ان کا ہے کچھ بات نسب کی ہے

عشاق تو پاگل ہیں فریاد پہ مت جاؤ
جس بزم میں تم آئے وہ بزم طرب کی ہے

پہلے تو محبت میں جو گزری سو ہے معلوم
پر کچھ نہیں کہہ سکتے جو کیفیت اب کی ہے

صدیاں تو نہیں گزریں اللہ نہ کرے گزریں
اے دل، یہ کہانی تو گزری ہوئی شب کی ہے

دستور کی زد میں ہے ناموسِ جواہر بھی
مٹی میں ملا کر قدر دنیا نے عجب کی ہے

یا بات نہ کر راحیلؔ یا بول تو اچھا بول
ظالم، تری باتوں میں تاثیر غضب کی ہے

راحیلؔ فاروق

۱۳ فروری ؁۲۰۱۷ء
ہمہ تن گوش ہوں ہمہ تن گوش
دوست خاموش ہے بہت خاموش

کوئے جانانہ تھا کہ ویرانہ
تھا مجھے ہوش؟ کیوں نہ تھا مجھے ہوش؟

ہاں ظلوم و جہول ہوں یا رب
دوش کس کا ہے؟ بول کس کا ہے دوش؟

کون ہے؟ جی فقیر! ہائے نہیں
کیا خور و نوش؟ کیا فقط خور و نوش؟

سینہ میدانِ جنگ ہے کس کا
دم زرہ پوش ہے نہ غم زرہ پوش

پھر کوئی درد ہے بلا کا درد
شعر میں جوش ہے غضب کا جوش

مند گئی آنکھ مند گئی راحیلؔ
کوئی آغوش ہے کوئی آغوش

راحیلؔ فاروق

۷ فروری ۲۰۱۷ء​
میرے شوق کی بےتابی سے تجھ کو قیامت یاد آئی ہے
آنکھ اٹھا کے دیکھ ذرا، خود تو نے قیامت کیا ڈھائی ہے

ویرانی سی ویرانی ہے، تنہائی سی تنہائی ہے
پہلے ٹوٹ کے رونے والا اب خاموش تماشائی ہے

شوخ ہوا کا مہکتا جھونکا گلیوں سے اٹھلاتا گزرا
چیخیں مار کے رویا پاگل، "ہرجائی ہے! ہرجائی ہے!"

قہر نہیں یہ دَورِ فلک کا، ظلم نہیں کچھ محبوبوں کا
دل خود درد کا دیوانہ ہے، درد بھی دل کا شیدائی ہے

جب جب فیضِ تیرہ شبی سے اہلِ ہنر کے دل لرزے ہیں
اپنی گرمئِ فکر ہزاروں شمعیں روشن کر لائی ہے

شاعر ہے راحیلؔ غضب کا، اس کی غزل کا کافر کافر
پر ظالم سودائی ہے اور سودائی پھر سودائی ہے!

راحیلؔ فاروق

تم اپنے حسن پہ غزلیں پڑھا کرو بیٹھے
کہ لکھنے والے تو مدت سے ہوش کھو بیٹھے

ترس گئی ہیں نگاہیں، زیادہ کیا کہیے
صنم صنم رہے بہتر، خدا نہ ہو بیٹھے

خدا کے فضل سے تعلیم وہ ہوئی ہے عام
خرد تو خیر، جنوں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے

برا کیا کہ تلاطم میں ناخدائی کی
کنارہ بھی نہ ملا، ناؤ بھی ڈبو بیٹھے

مریضِ عشق کا جلدی جنازہ نکلے گا
کچھ اور دیر پتا پوچھتے رہو بیٹھے

تمام شہر میں بانٹی ہے شعر کی خیرات
ہم اس کے درد کو دل میں نہیں سمو بیٹھے

تمھاری بزم بہت تنگ اور دشت وسیع
چلے تو آئے گھڑی دو گھڑی ہی گو بیٹھے

بجھی نہ آتش دل ہی کسی طرح راحیلؔ
وگرنہ یار تو آنکھیں بہت بھگو بیٹھے

راحیلؔ فاروق

۴ فروری ۲۰۱۷
شاعری کی تعریف کے سلسلے میں جو فسادات ناقدین و ناظرین کے ہاں برپا رہے ہیں ان سے ادب کے قارئین واقف ہیں۔ دور کی کوڑیاں بھی کم نہیں لائی گئیں اور گھر کے کھوٹے سکے بھی بہت چلائے گئے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان بحثوں کے شیوع اور منہاج پر بہت زیادہ اثر گزشتہ کچھ عرصے سے تنقیدِ مغرب کا رہا ہے۔ یہ اندازِ نظر شاید کبھی بھی کسی ادبی و فنی مسئلے کے حل میں کوئی قابلِ قدر کردار نہیں ادا کر سکتا۔
اہلِ مغرب کی طرزِ فکر کا خاصہ، جہاں تک میں سمجھا ہوں، یہ ہے کہ وہ مظاہر کے تحلیلی و تجزیاتی مطالعے کے شائق ہیں اور کلیاتی نقطۂِ نظر کو عموماً گھاس نہیں ڈالتے۔ اس کا نتیجہ ان کے ہاں سائنس اور فلسفے کے فروغ کی صورت میں نکلا ہے۔ دوسری جانب اہلِ مشرق کے ہاں زیادہ تر کلیاتی روش نے بار پایا ہے جس کے شاہکار مذاہب اور فنونِ لطیفہ ہیں۔ فنون کے مطالعے کے لیے میرے خیال میں یہی نقطۂِ نگاہ سود مند ہے۔
اگر اپنی نظر کو ہم شعر اور نثر کی گنجلک تفہیمات سے ہٹا کر ادب کے وسیع تر منظر نامے پر دوڑائیں تو بہت سے مسائل پیدا ہی نہیں ہوتے۔ ادب کی سادہ ترین تعریف کیا ہو سکتی ہے؟ میں دوسری آرا کے حوالوں کے چکر میں پڑے بغیر اپنی رائے پیش کر دیتا ہوں۔ میرے خیال میں ادب وہ فن ہے جس میں بنیادی طور پر لکھے ہوئے الفاظ کے ذریعے عام طور پر جذبات کو انگیخت کر کے متاثر کیا جاتا ہے۔ یہ انگیخت خود جذبات کی ترجمانی کے ذریعے بھی ہو سکتی ہے اور اس کے بغیر بھی۔ شاعری اور نثر اسی کی دو شاخیں ہیں۔ لہٰذا یہ طے ہو گیا جو چیز ادب کے دائرے سے خارج ہے وہ شعر بھی نہیں اور نثر بھی نہیں۔ شعر یا نثر کا فیصلہ اسی فن پارے کی بابت صادر کیا جائے گا جو ادب کی ذیل میں آتا ہو۔
زیادہ دقت سے کام لیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ شعر یا نثر کی حیثیت صرف انھی فن پاروں کو حاصل ہو سکتی ہے جو:

  1. الفاظ پر مشتمل ہوں۔
  2. انسانی جذبات کو ابھار کر متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
  3. کسی خاص تناظر سے مخصوص نہ ہوں بلکہ عمومی جذباتی افادہ رکھتے ہوں۔

یہاں ہمیں یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ انسانی فطرت ثنائی نظام کی پابند نہیں۔ یعنی انسانی زندگی میں ہر چیز کے صرف دو متبادلات نہیں ہوتے بلکہ دو انتہاؤں کے بین بین کئی دنیائیں پائی جاتی ہیں۔ ادب بھی چونکہ ایک انسانی کاوش ہے لہٰذا یہ کہنا قریب قریب ناممکن ہے کہ فلاں تحریر خالص ترین ادب ہے اور فلاں قطعاً ادب نہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہی ہو سکتا ہے کہ جو تحریر ان دونوں معیارات کے قریب ترین پہنچے گی وہ بہتر ادب قرار پائے گی اور جو دور جا پڑے گی اسے اتنا ہی غیر ادبی قرار دیا جائے گا۔ یعنی معاملہ ادب ہونے اور نہ ہونے کی بجائے اچھا ادب یا برا ادب ہونے تک محدود ہو جاتا ہے۔
مناسب ہے کہ ان تینوں شقوں کی بھی تھوڑی تفصیل بیان کر دی جائے۔ ادب ہمیشہ صرف الفاظ پر مشتمل نہیں ہوتا۔ گیت کی مثال لیجیے۔ اس میں الفاظ بھی ہوتے ہیں اور ان میں ہیجان انگیزی کا عنصر بھی پایا جاتا ہے۔ مگر جب اس میں موسیقی بھی داخل ہوتی ہے تو یہ صرف ادب نہیں رہتا بلکہ دونوں کے بین بین معلق ہو جاتا ہے۔ لہٰذا گیت کو ہم خالص ترین ادب نہیں قرار دے سکتے۔ یہی مثال ڈراما کی ہے۔ عمل اور مکالمے کے دخل سے ڈراما بھی ادب کی خالص ترین شکل سے کسی قدر دور جا پڑتا ہے۔
دوسرا معاملہ یہ ہے کہ جذباتِ انسانی کو غیرادبی تحریریں بھی متاثر کرتی ہیں۔ فلسفہ، حکمت اور سائنس کی تحقیقات بھی جو لکھی ہوئی حالت میں ہمارے سامنے پیش کی جائیں ہماری طبیعتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ مگر ادب کے لیے ضروری ہے کہ وہ جذبات میں فوری تلاطم بھی پیدا کرے اور دیر پا اثرات بھی مرتب کرے۔ غیر ادبی تحریریں ان دونوں معیارات پر عموماً اکٹھی پورا نہیں اتر سکتیں۔
تیسری جانب، تناظر کا قصہ یہ ہے کہ ذاتی، زمانی یا مکانی معاملات کا تحریری بیان بھی فرد کے جذبات کو متلاطم کر دیتا ہے۔ مگر گالی لکھ کر دی جائے تو وہ ادب نہیں ہو جاتی۔ کیونکہ وہ اس شخص کی ذات سے مخصوص ہے جو ہدفِ دشنام ہے۔ بعینہٖ اسی طرح خبریں بھی ایک مخصوص زمانی و مکانی تناظر رکھتی ہیں جس کے باعث وہ ہر کسی کے جذبات کو تحریک نہیں دے سکتیں۔ یہی معاملہ تاریخ وغیرہ کا بھی ہے۔ ادب ان کے برعکس وہ افادہ رکھتا ہے جسے عرفِ عام میں آفاقیت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ان تینوں شرائط کے قریب ترین پہنچنے والی تحریریں بہترین ادب کہلائیں گی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ڈراما جیسی کوئی صنف ایک پہلو سے تو کسی قدر مار کھا جائے مگر دوسری دو شرائط کو اس سلیقے سے پورا کرے کہ تمام شقوں پر پوری اترنے والی تحریروں سے بھی ممتاز ہو جائے۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شرائط میرے خیال میں لازماً یہی ہیں گو کہ ان کی تعمیل میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ یہ کمی بیشی ادب کی حیثیت متعین کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
اب رہا شعر اور نثر کا معاملہ تو وہ یہاں آ کر بہت صاف ہو جاتا ہے۔ شعر وہ ادب ہے جو موزوں اور مقفیٰ ہو جبکہ نثر کے لیے وزن اور قافیے کی شرط نہیں۔ اس محاکمے میں بھی اسی نامیاتی طرزِ نگاہ کی ضرور ہے جس سے ہم کسی تحریر کے اچھا یا برا ادب ہونے کا فیصلہ صادر کرتے ہیں۔ یعنی کچھ جگہوں پر، مثلاً مرصع عبارتوں کے ضمن میں، شاید ہم یہ نہ کہہ پائیں کہ فلاں ادب پارہ نظم ہے اور فلاں نثر۔ اس کی بجائے ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ فلاں تحریر اچھا شعر ہے اور فلاں اچھی نثر۔ طے شدہ اصناف کی بات البتہ دوسری ہے۔ یعنی غزل، مسدس، مثنوی، داستان وغیرہ کی نسبت شبہ کی گنجائش بہت کم ہے۔ یہ بہرحال لازم ہے کہ ان اصناف میں شمار ہونے کے لیے وہ تحریر ادب ہونے کی شرائط پر ضرور پوری اترتی ہو۔ ادب پہلا قرینہ ہے!
ہم نہائیں تو کیا تماشا ہو
مر نہ جائیں تو کیا تماشا ہو

غسل خانے میں، ٹھنڈے پانی میں
مسکرائیں تو کیا تماشا ہو

نام اللہ کا لے کے گھس تو گئے
نکل آئیں تو کیا تماشا ہو

ناچ اٹھیں یار دوست اور ہم بھی
کپکپائیں تو کیا تماشا ہو

پھر نہانے سے فرق بھی ایسا
کچھ نہ پائیں تو کیا تماشا ہو

باہر آ کر تری غزل راحیلؔ
گنگنائیں تو کیا تماشا ہو

راحیلؔ فاروق

۳۰ جنوری ۲۰۱۷ء